Main Icon

باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3103

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَن جَابِرٍ: أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحِجَامَةِ، فَأَمَرَ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا. قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ كَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ أَو غُلَامًا لم يَحْتَلِم. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن جابر: أن أم سلمة استأذنت رسول الله صلى الله عليه وسلم في الحجامة، فأمر أبا طيبة أن يحجمها. قال: حسبت أنه كان أخاها من الرضاعة أو غلاما لم يحتلم. رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ حضرت ام سلمہ نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم سے فصد کی اجازت مانگی ۱؎تو حضور نے ابو طیبہ کو حکم دیا کہ ان کی فصد کریں ۲؎فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ ابو طیبہ ان کے دودھ کے بھائی تھے یا نابالغ لڑکے ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎عرض کیا مجھے اجازت دی جائے کہ فصد لینے والے سے فصد کرادوں،معلوم ہوا کہ عورت کے لیے بہتر یہ ہی ہے حکیم ڈاکٹر کا علاج خاوند کی اجازت سے کرائے خصوصًا جب کہ علاج میں بے پردہ ہونا پڑتا ہو کیونکہ فصد میں یقینًا فصد کی جگہ کو دیکھنا پڑے گا۔
۲
؎ابو طیبہ کا نام نافع ہے محیصہ ابن مسعود انصاری کے آزاد کردہ غلام ہیں،صحابی ہیں،مدینہ منورہ میں فصد کھولنے کے بڑے ماہر تھے (اکمال)
۳
؎علماء فرماتے ہیں کہ علاج و فصد ختنہ کے لیے مریض کی جاء مرض اجنبی حکیم بھی دیکھ سکتا ہے۔(مرقاۃ و اشعہ)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر ایسے علاج کے لیے عورت کا محرم حکیم ہو تو بمقابلہ اجنبی کے اس سے علاج کرانا بہتر ہے یہ بھی معلوم ہوا کہ نابالغ بچہ سے پردہ نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3103