Main Icon

باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3121

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا وَفِي الْبَيْتِ مُخَنَّثٌ، فَقَالَ لِعَبْدِ اللّٰهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَخِي أُمِّ سَلَمَةَ:يَا عَبْدَ اللّٰهِ إِنْ فَتَحَ اللّٰهُ لَكُمْ غَدًا الطَّائِفَ فَإِنِّي أَدُلُّكَ عَلَى ابْنَةِ غَيْلَانَ، فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا يَدْخُلَنَّ هَؤُلَاءِ عَلَيْكُمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن أم سلمة: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان عندها وفي البيت مخنث، فقال لعبد الله بن أبي أمية أخي أم سلمة:يا عبد الله إن فتح الله لكم غدا الطائف فإني أدلك على ابنة غيلان، فإنها تقبل بأربع وتدبر بثمان، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : "لا يدخلن هؤلاء عليكم". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ان کے پاس تھے اور گھر میں ایک ہیجڑا تھا ۱؎عبدابن امیہ جو جناب ام سلمہ کے بھائی ہیں سے کہہ رہا تھا کہ اے عبدکہ کل اگرتمہیں طائف کی فتح دے ۲؎تو میں تمہیں غیلان کی بیٹی کا پتا دیتا ہوں ۳؎جو آتی ہے چار سے اور جاتی ہے آٹھ سے ۴؎تب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ لوگ ہر گز تمہارے پاس نہ آیاکریں ۵؎(بخاری،مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎مخنَّثنون کے فتح سے بھی پڑھا جاتا ہے اور نون کے کسرہ سے بھی۔مخنث وہ ہے جو حرکات و سکنات،گفتار ورفتار میں عورتوں کی طرح ہو اگر قدرتی یہ حالت ہو تو وہ گنہگار نہیں اور اگر مرد ہے مگر عورتوں کی شکل بناتا ہے تو بفرمان حدیث ملعون ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے مرد بننے والی عورتوں پر اور عورت بننے والے مردوں پر لعنت فرمائی،یہ قدرتی مخنث تھا۔حضرت ام المؤمنین حضرت ام سلمہ نے سمجھا کہ یہغیراُولِی الاربہمیں داخل ہے جن سے پردہ نہیں اس لیے اسے گھر میں آنے کی اجازت دے دی حضور انور نے اس کی یہ گفتگو سن کر اسےغیراُولِی الاربہمیں داخل نہ فرمایا اس مخنث کا نام ماطغ یا ہیت تھا۔
۲
؎کل سے مراد آئندہ زمانہ ہے یہ واقع فتح طائف سے پہلے کا ہے جب طائف پر حملہ ہونا والا تھا اور فتح طائف سے مراد قلعہ طائف کا فتح کرنا ہے۔
۳
؎غیلان طائف کے ایک شخص کا نام تھا اس کی اس بیٹی کا نام بادیہ تھا یہ فتح طائف کے بعد حضرت عبدالرحمان ابن عوف کے نکاح میں آئی۔(اشعہ)
۴
؎یعنی وہ لڑکی اتنی موٹی ہے کہ موٹاپے کی وجہ سے اس کے پیٹ میں چار سلوٹیں یعنی بلٹیں ہیں جسے عربی میںعکنہکہتے ہیں جب سامنے سےآتی ہے تو وہ چاروں بلٹیں پوری نظر آتی ہیں اور جب پیٹھ پھیر کر جاتی ہے تو ان چاروں بلٹوں کے دو طرفہ کنارے نظر آتے ہیں ہر سلوٹ و بلٹ کے چار کنارے تو دو کے آٹھ ہوئے عمومًا مرد موٹی عورت کو پسند کرتے ہیں اس لیے وہ مخنث اس کی موٹائی بیان کررہا ہے۔
۵
؎اس حکم سے پہلے خنثوں یعنی ہیجڑوں کا گھروں میں آنا ممنوع نہ تھاکیونکہ یہ عورت کے قابل نہیں ہوتے جیسے بہت چھوٹے لڑکے یا بہت بوڑھے مرد یا خصی یا مجبوب ( ذکر کٹا ہوا)مگر آج پتہ لگا کہ ہیجڑوں کا گھروں میں آنا فساد کا باعث ہے جیسے وہ دوسری عورتوں کا ذکر ہم سے کرتے ہیں ہماری عورتوں کا ذکر دوسروں سے ضرور کریں گے،اس لیے ان کو مسلمانوں کے گھروں سے روک دیا گیا۔فقہا ء فرماتے ہیں کہ خصی مجبوب(ذکر کٹا)بلکہ آوارہ بدمعاش عورتیں بھی اسی حکم میں داخل ہیں کہ مؤمنہ عورتیں ان سے پردہ کریں ان کا فساد مردوں کے فساد سے بھی زیادہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3121