Main Icon

باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3109

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ، فَإِذَا خَرَجَتِ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "المرأة عورة، فإذا خرجت استشرفها الشيطان". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ عورت چھپانے کے لائق ہے ۱؎جب عورت نکلتی ہے تو اسے شیطان گھورتا ہے ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎عورت کے معنیمَایُعَارُفِیْ اِظْھَارِہٖجس کا ظاہر ہونا قابل عارو شرم ہو عورت کا بے پردہ رہنا میکے والوں کے لیے بھی ننگ و شرم کا باعث ہے اور سسرال والوں کے لیے بھی۔
۲
؎استشرافکے معنی ہیں کسی چیز کو بغور دیکھنا یا اس کے معنی ہیں لوگوں کی نگاہ میں اچھا کردینا تاکہ لوگ اسے بغور دیکھیں۔ (مرقات واشعہ)یعنی عورت جب بے پردہ ہوتی ہے تو شیطان لوگوں کی نگاہ میں اسے بھلی کردیتا ہے کہ وہ خوامخواہ اسے تکتے ہیں، مثل مشہور ہے کہ پرائی عورت اور اپنی اولاد اچھی معلوم ہوتی ہے اور پرایا مال اپنی عقل زیادہ معلوم ہوتے ہیں،سرکار کا یہ فرمان بالکل دیکھنے میں آرہا ہے بعض لوگ اپنی خوبصورت بیویوں سے متنفر ہوتے ہیں دوسری بدصورت عورتوں پر فریفتہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3109