Main Icon

باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3113

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: "يَا عَلِيُّ! لَا تُبْرِزْ فَخِذَكَ، وَلَا تَنْظُرْ إِلَى فَخِذِ حَيٍّ وَلَا مَيِّتٍ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه.

وعن علي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له: "يا علي! لا تبرز فخذك، ولا تنظر إلى فخذ حي ولا ميت". رواه أبو داود وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے فرمایا اے علی نہ اپنی ران کھولو ۱؎اور نہ کسی زندہ مردہ کی ران دیکھو ۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی کسی کے سامنے ران نہ کھولو اور نہ بلا ضرورت تنہائی میں کھولو رب تعالٰی سے شرم کرو کیونکہ ران ستر ہے اس سے آج کل کے نیکر پہننے والے عبرت پکڑیں جن کی آدھی رانیں کھلی ہوتی ہیں اور وہ بے تکلف لوگوں میں پھرتے ہیں اللہ تعالٰی ایمانی غیرت نصیب کرے۔
۲
؎یعنی کسی مُردہ بالغ مسلمان کی ران نہ دیکھو اور کسی ایسے زندہ کی ران نہ دیکھو جن کا تم سے ستر ہے لہذا اس دوسرے حکم سے اپنی بیوی اور اپنی لونڈی خارج ہے ۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ ران ستر ہے،جس کا چھپانا فرض ہے،لہذا یہ حدیث امام مالک کے خلاف ہے، دوسرے یہ کہ مردہ کا احترام زندہ کی طرح ہے کہ اس کا ستر دیکھنا حرام ہے لہذا غسال بھی میت کو ستر ڈھک کر غسل دے اسے بھی ستر دیکھنا جائز نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3113