Main Icon

باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3110

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيِّ: "يَا عَلِيُّ! لَا تُتْبعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ، فَإِنَّ لَكَ الأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الآخِرَةُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ والدَّارِمِيُّ.

وعن بريدة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي: "يا علي! لا تتبع النظرة النظرة، فإن لك الأولى وليست لك الآخرة". رواه أحمد والترمذي وأبو داود والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے جناب علی سے فرمایا اے علی ایک نگاہ کے بعد دوسری نگاہ نہ کرو کہ تم کو پہلی نظر ہی جائز ہے دوسری جائز نہیں ۱؎(احمد، ترمذی،ابوداؤد،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎پہلی نگاہ سے مراد وہ نگاہ ہے جو بغیر قصدا جنبی عورت پر پڑ جائے اور دوسری نگاہ سے مراد دوبارہ اسے قصدًا دیکھنا ہے اگر پہلی نگاہ بھی جمائے رکھی تو بھی دوسری نگاہ کے حکم میں ہوگی اس پر بھی گناہ ہوگا۔اس سے معلوم ہوا کہ علماء مشائخ کو بھی جائز نہیں کہ اپنی شاگردنی یا مریدنی کو قصدًا دیکھیں۔حضرت علی علماء و اولیاء کے سردار ہیں ان کو یہ حکم ہورہا ہے غورکر اور ڈر،ان سے بڑھ کر پاکباز کون ہوسکتا ہے۔جائز سے مراد ہے جس پر گناہ نہ ہو، جائز نہیں ناجائز کا مقابل ہوتا ہے کبھی فرض و واجب کا،ہوسکتا ہے کہلککا لام نفع کا ہو یعنی بغیر ارادہ والی نظر تمہارے لیے مفید ہے کہ جب تم فورًا نگاہ نیچی کر لو گے تو ثواب پاؤ گے تو لامحالہ دوسری نظر مضر ہی ہوگی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3110