Main Icon

باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3117

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "احْفَظْ عَوْرتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ أَو مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أفرَأَيْت إِذا كَانَ الرَّجُلُ خَالِيًا؟ قَالَ: "فَاللّٰهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَى مِنْه". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.

وعن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "احفظ عورتك إلا من زوجتك أو ما ملكت يمينك" قلت: يا رسول الله! أفرأيت إذا كان الرجل خاليا؟ قال: "فالله أحق أن يستحيى منه". رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بہز ابن حکیم سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اپنے ستر چھپاؤ،سوائے اپنی بیوی یا مملوکہ لونڈی کے ۲؎میں نے عرض کیا یارسول اللہ فرمایئے کہ جب مرد تنہا ہو فرمایا کہ اللہ حق دار ہے کہ اس سے شرم کی جائے ۳؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)۴؎

شرح حدیث

۱∞؎یہ بہز اوران کے والد حکیم دونوں تابعی ہیں،ہاں بہز کے دادا معاویہ ابن عیدہ صحابی ہیں جو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد بصرہ میں رہے،خراسان میں وفات پائی،یہاںجدہکا مرجع بہز ہیں یعنی حکیم نے اپنے والد جو بہز کے دادا ہیں،ان سے روایت کی لہذا حدیث متصل ہے(اشعہ)
۲
؎صحیح یہ ہے کہ یہاں حفاظت سے مراد بے پردگی سے حفاظت ہے یعنی اپنی بیوی اور مملوکہ لونڈی سے تو پردہ نہیں باقی تمام سے ستر چھپانا واجب ہے اس کی مؤید وہ آیت کریمہ ہے"وَالَّذِیۡنَ ھُمْ لِفُرُوۡجِہِمْ حٰفِظُوۡنَ اِلَّا عَلٰۤی اَزْوٰجِہِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُهُمْ"۔معلوم ہوا کہ خاوند بیوی ایک دوسرے کے سامنے برہنہ ہوسکتے ہیں
۳
؎یعنی اللہ تعالٰی اپنے بندہ کا برہنہ ہونا پسند نہیں کرتا اور وہ تو تم کو برہنگی کی حالت میں دیکھ رہا ہے لہذا اس کے فرمان کی مخالفت سے شرم کرو۔حدیث کا مقصد یہ نہیں کہ رب تعالٰی کپڑے پہنے ہوئے کا ستر نہیں دیکھتا کپڑا اس کے لیے آڑ بن جاتا ہے،اس سے معلوم ہوا کہ تنہائی میں بھی بلاوجہ برہنہ نہ رہے۔
۴
؎یہ حدیث احمد،بیہقی،حاکم وغیرہم نے بھی کچھ فرق سے روایت فرمایا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3117