Main Icon

باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3119

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا تَلِجُوا عَلَى الْمُغِيبَاتِ؛ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ أَحَدِكُمْ مَجْرَى الدَّمِ قُلْنَا: وَمِنْكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: "وَمِنِّي وَلَكِنَّ اللّٰهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "لا تلجوا على المغيبات؛ فإن الشيطان يجري من أحدكم مجرى الدم قلنا: ومنك يا رسول الله؟ قال: "ومني ولكن الله أعانني عليه فأسلم". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا جن عورتوں کے خاوند غائب ہوں ان کے پاس نہ جاؤ ۱؎کیونکہ شیطان تم میں سے ہر ایک کے خون کے دوران کے ساتھ گردش کرتا ہے ۲؎ہم نے عرض کیا یارسول اللہ اور آپ کے بھی ۳؎فرمایا میرے بھی لیکن اللہ نے مجھے اس پر مدد دی چنانچہ وہ مسلمان ہوگیا ۴؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ان اجنبی عورتوں کے پاس جانے سے بہت ہی بچو،جن کے خاوند پردیس میں ہیں،یہ قید اس لیے لگائی کہ خاوند والی عورت لذت جماع سے واقف ہے اور خاوند کی غیر موجودگی سے اس کی شہوت غالب ہے،ایسی عورت کے لیے ادنی محرک بھی خطرناک ہے،مٹی کے تیل میں بھیگی ہوئی روئی اور پیٹرول دور سے آگ لے لیتے ہیں۔
۲
؎یعنی عورت مرد دونوں کے رگ رگ میں شیطان اثر کرتا ہے جیسے خون اور جیسے خون نظر نہیں آتا مگر جسم میں گردش کرتا ہے یوں ہی شیطان نظرنہیں آتا مگر اپنا کام کیے جاتا ہے،چھپا دشمن کھلے دشمن سے زیادہ خطرناک ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّہٗ یَرٰىکُمْ هُوَ وَقَبِیۡلُہٗ مِنْ حَیۡثُ لَا تَرَوْنَہُمْ"۔۳؎صحابہ کرام سمجھے تھے کہ انبیائے کرام معصوم ہوتے ہیں ا س لیے ان کے پاس شیطان پھٹکتا بھی نہیں ہوگا اس لیے یہ سوال کیا جواب میں بتادیا گیا کہ عصمت شیطان کے آجانے کے خلاف نہیں شیطان معصوموں کے پاس بھی پہنچ جاتا ہے۔
۴
؎یہاں اس سے مراد قرین شیطان ہے جو ہر وقت انسان کے ساتھ رہتا ہے اوراسلمکے یہ ہی معنی ٹھیک ہیں کہ وہ اسلام لے آیا اب وہ میری اطاعت ہی کرتا ہے،یعنی میرا قرین شیطان میری صحبت کی برکت سے مسلمان ہوگیا۔سبحان الله !پارس کے پاس رہنے سے لوہا سونا بن جاتا ہے نبی کے ساتھ رہنے سے شیطان مسلمان بن گیا گویا اس کی حقیقت ہی بدل گئی۔اس حدیث سے وہ لوگ عبرتے پکڑیں جو کہتے ہیں کہ حضرت صدیق وفاروق سایہ کی طرح حضور کے ساتھ رہنے کے باوجود مؤمن نہ ہوسکے، ارے حضور کی صحبت تو حقیقت بدل دیتی ہے۔ بعض لوگوں نے اسےاُسَلَّمپڑھا ہے مضارع مجہول متکلم یعنی میں اس کے شر سے محفوظ و سلامت رکھا جاتا ہوں مگر پہلے معنی بہت ہی قوی ہیں۔۱؎یعنی ان اجنبی عورتوں کے پاس جانے سے بہت ہی بچو،جن کے خاوند پردیس میں ہیں،یہ قید اس لیے لگائی کہ خاوند والی عورت لذت جماع سے واقف ہے اور خاوند کی غیر موجودگی سے اس کی شہوت غالب ہے،ایسی عورت کے لیے ادنی محرک بھی خطرناک ہے،مٹی کے تیل میں بھیگی ہوئی روئی اور پیٹرول دور سے آگ لے لیتے ہیں۔
۲
؎یعنی عورت مرد دونوں کے رگ رگ میں شیطان اثر کرتا ہے جیسے خون اور جیسے خون نظر نہیں آتا مگر جسم میں گردش کرتا ہے یوں ہی شیطان نظرنہیں آتا مگر اپنا کام کیے جاتا ہے،چھپا دشمن کھلے دشمن سے زیادہ خطرناک ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّہٗ یَرٰىکُمْ هُوَ وَقَبِیۡلُہٗ مِنْ حَیۡثُ لَا تَرَوْنَہُمْ"۔۳؎صحابہ کرام سمجھے تھے کہ انبیائے کرام معصوم ہوتے ہیں ا س لیے ان کے پاس شیطان پھٹکتا بھی نہیں ہوگا اس لیے یہ سوال کیا جواب میں بتادیا گیا کہ عصمت شیطان کے آجانے کے خلاف نہیں شیطان معصوموں کے پاس بھی پہنچ جاتا ہے۔
۴
؎یہاں اس سے مراد قرین شیطان ہے جو ہر وقت انسان کے ساتھ رہتا ہے اوراسلمکے یہ ہی معنی ٹھیک ہیں کہ وہ اسلام لے آیا اب وہ میری اطاعت ہی کرتا ہے،یعنی میرا قرین شیطان میری صحبت کی برکت سے مسلمان ہوگیا۔سبحان الله !پارس کے پاس رہنے سے لوہا سونا بن جاتا ہے نبی کے ساتھ رہنے سے شیطان مسلمان بن گیا گویا اس کی حقیقت ہی بدل گئی۔اس حدیث سے وہ لوگ عبرتے پکڑیں جو کہتے ہیں کہ حضرت صدیق وفاروق سایہ کی طرح حضور کے ساتھ رہنے کے باوجود مؤمن نہ ہوسکے، ارے حضور کی صحبت تو حقیقت بدل دیتی ہے۔ بعض لوگوں نے اسےاُسَلَّمپڑھا ہے مضارع مجہول متکلم یعنی میں اس کے شر سے محفوظ و سلامت رکھا جاتا ہوں مگر پہلے معنی بہت ہی قوی ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3119