Main Icon

باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3114

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَعْمَرٍ وَفَخِذَاهُ مَكْشُوفَتَانِ قَالَ: "يَا مَعْمَرُ غَطِّ فَخِذَيْكَ فَإِنَّ الفخذين عَورَةٌ رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

وعن محمد بن جحش قال: مر رسول الله صلى الله عليه وسلم على معمر وفخذاه مكشوفتان قال: "يا معمر غط فخذيك فإن الفخذين عورة رواه في "شرح السنة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت محمد ابن جحش سے ۱؎فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم معمر پر گزرے،حالانکہ ان کی رانیں کھلی تھیں ۲؎تو فرمایا اے معمر اپنی رانیں ڈھک لو،کیونکہ رانیں ستر ہیں ۳؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎محمد ابن جحش جیم اورحاء کے فتح سے ان کے حالات نہ معلوم ہوسکے غالبًا آپ صحابی ہیں اور یہ حدیث مرسل نہیں بلکہ متصل ہے۔ (اشعہ)
۲
؎معمر ابن عبد اللہ قرشی عدوی صحابی ہیں بڑے پرانے مسلمان ہیں اہل مدینہ میں شمار ہوتے ہیں چونکہ یہ حضرات پہلے سے ستر ڈھانپنے کے عادی نہ تھے نیز انہیں خبر نہ تھی کہ ران بھی ستر ہے اس لیے بے خیالی میں ران کھولے بیٹھے تھے لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ صحابی ستر کھولے کیوں بیٹھے تھے۔
۳
؎یعنی گھٹنوں سے ناف تک کا بدن ستر ہے اس کا چھپانا واجب ہے ناراضی کا اظہار اس لیے نہ فرمایا کہ یہ حضرت مسئلہ سے بے خبر تھے یا بے خیالی میں ان کی ران کھل گئی تھی،غرض کہ بے خبری اور بے خیالی اور دیدہ دانستہ جرم کرنا کچھ اور۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3114