Main Icon

باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3112

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَرْهَدٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ؟ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.

وعن جرهد: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "أما علمت أن الفخذ عورة؟ ". رواه الترمذي وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جرہد سے ۱؎کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ ران ستر ہے ۲؎(ترمذی،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎جرہد بروزن جعفر ابن خویلد ہیں،صحابی ہیں،اصحاب صفہ میں سے ہیں،اہل مدینہ سے تھے، ۶۱ھ میں وفات پائی آپ سے آپ کے بیٹوں،عبد اللہ، عبدالرحمان،سلیمان اور مسلم نے احادیث نقل کیں۔
۲
؎یہ سوال زجر کا ہے یعنی یہ مسئلہ جاننا ضروریات دین سے ہے،کیا تم نے اب تک اتنا ضروری مسئلہ بھی نہ سیکھا کہ مرد کی ران ستر عورت ہے اسی حدیث کی بنا پر امام ابوحنیفہ و شافعی و احمد ابن حنبل مرد کی ران کو ستر مانتے ہیں،امام مالک کے ہاں ستر نہیں لہذا ران کھول کر نماز درست نہیں،مگر خیال رہے کہ یہ اختلاف مرد کی ران میں ہے عورت کی ران کو سب ستر مانتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3112