Main Icon

باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3105

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّ الْمَرْأَةَ تُقْبِلُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ، وَتُدْبِرُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ، إِذَا أَحَدُكُمْ أَعْجَبَتْهُ الْمَرْأَةُ فَوَقَعَتْ فِي قَلْبِهِ فَلْيَعْمِدْ إِلَى امْرَأَتِهِ فَلْيُوَاقِعْهَا، فَإِنَّ ذَلِكَ يَرُدُّ مَا فِي نفسِهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إن المرأة تقبل في صورة شيطان، وتدبر في صورة شيطان، إذا أحدكم أعجبته المرأة فوقعت في قلبه فليعمد إلى امرأته فليواقعها، فإن ذلك يرد ما في نفسه". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ عورت شیطان کی شکل میں تو آتی ہے اور شیطان کی صورت ہی میں جاتی ہے ۱؎جب تم میں سے کسی کو کوئی عورت بھلی معلوم ہو اور اس کے دل میں کچھ وسوسہ پڑ جائے تو اپنی بیوی کی طرف قصد کرے اس سے قصد کرے ۲؎یقینًا یہ عمل اس کے دل کے وسوسہ کو دفع کرے گا۔(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اجنبی عورت کو آتے ہوئے آگے سے دیکھو یا جاتے ہوئے پیچھے سے دیکھو مرد کے دل میں وسوسے اور برے شہوانی خیال پیدا کرتی ہے جیسے شیطان برے خیال و وسوسے پیدا کرتا ہے لہذا اس سے ایسا ہی ڈرنا چاہیے جیسے شیطان سے ڈرتے ہیں کوئی متقی پرہیزگار اپنے تقویٰ پر پرہیزگاری پر اعتماد نہ کرے اور اجنبی عورتوں سے احتیاط رکھے اس میں اشارہ فرمایا گیا کہ بلا ضرورت عورت گھر سے نہ نکلے اور مرد اجنبی عورت کو کپڑوں پر سے بھی نہ دیکھے کہ فتنہ اندیشہ ہے،نیز عورت کو لازم ہے کہ لباس فاخرہ عمدہ برقعہ اوڑھ کر نہ باہر جائے کہ بھڑک دار برقعہ پردہ نہیں بلکہ زینت ہے۔(نووی و مرقات)
۲
؎یہ عمل حصول تقویٰ اور دفع وسوسے کے لیے اکسیر ہے صحبت کرلینے سے شہوت کا جوش جاتا رہے گا یہ جوش ہی میلان کی وجہ تھی،علماء فرماتے ہیں کہ عورت کو چاہیے کہ خاوند کے بلانے پر بغیر پس و پیش آجائے کوئی مانع نہ ہو کہ بسا اوقات اکثر جوش شہوت بدن و قلب کو بیمار کردیتا ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3105