Main Icon

باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3115

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِيَّاكُمْ وَالتَّعَرِّيَ؛ فَإِنَّ مَعَكُمْ مَنْ لَا يُفَارِقُكُمْ إِلَّا عِنْدَ الْغَائِطِ وَحِينَ يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى أَهْلِهِ، فَاسْتَحْيُوهُمْ وَأَكْرِمُوهُمْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إياكم والتعري؛ فإن معكم من لا يفارقكم إلا عند الغائط وحين يفضي الرجل إلى أهله، فاستحيوهم وأكرموهم". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ نے کہ ننگے ہونے سے بچو ۱؎کیونکہ تمہارے ساتھ وہ ہیں جو تم سے کبھی جدا نہیں ہوتے سوائے پیشاب پاخانہ کے اور اس وقت کے جب مرد اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے۲؎تو ان سے شرم کرو اور ان کا احترام کرو ۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اکیلے میں بھی ستر نہ کھولو جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔
۲
؎ان سے مراد اعمال لکھنے والے اور محافظین فرشتے ہیں جو ہر وقت انسان کے ساتھ رہتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ صرف کاتبین فرشتے مراد ہوں کیونکہ حافظین تو پاخانہ وغیرہ میں بھی ساتھ رہتے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ ملائکہ شرمیلے ہیں انسان کا ستر دیکھنے میں شرم کرتے ہیں تو ہم کو بھی ان سے شرم چاہیے، اللہ کے بندوں سے حیاء کرنا ایمانی تقاضا ہے۔
۳
؎اس لیے پاخانہ اور صحبت کے وقت بات کرنا منع ہے کہ بات لکھنے کے لیے کاتبین فرشتوں کو ہمارے پاس آنا پڑے گا اور وہ اس وقت پاس آنا نہیں چاہتے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بغیر ضرورت ستر کھولنا ممنوع ہے۔اسی لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ پاخانہ،پیشاب،بیٹھتے وقت کھڑے ہوتے وقت ننگا نہ ہوجائے بلکہ زمین کے قریب پہنچ کر کپڑا اٹھائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3115