Main Icon

باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3122

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: حَمَلْتُ حَجَرًا ثَقِيلًا، فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي سَقَطَ عَنِّي ثَوْبِي، فَلَمْ أَسْتَطِعْ أَخْذَهُ، فَرَآنِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي: "خُذْ عَلَيْكَ ثَوْبَكَ وَلَا تَمْشُوا عُرَاةً". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن المسور بن مخرمة قال: حملت حجرا ثقيلا، فبينا أنا أمشي سقط عني ثوبي، فلم أستطع أخذه، فرآني رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لي: "خذ عليك ثوبك ولا تمشوا عراة". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مسور ابن مخرمہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے ایک بھاری پتھر اٹھایا تو میرے چلنے کی حالت میں میرا کپڑا اتر گیا میں اسے لے نہ سکا۲؎مجھے رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے دیکھا تومجھ سے فرمایا اپنے پر کپڑا لے لو اور ننگے نہ چلو ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کی کنیت ابوعبدالرحمان ہے،زہری ہیں،قرشی ہیں عبدالرحمن ابن عوف کے بھانجہ ہیں ۲ھ؁∞ میں مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے اور بقر عید ۸ھ؁∞ میں ہجرت کرکے مدینہ منورہ حاضر ہوئے شہادت عثمان تک مدینہ پاک ہی رہے اس کے بعد مکہ معظمہ چلے گئے، امیر معاویہ کے انتقال کے بعد یزید ابن معاویہ کی بیعت سے انکار کردیا جب یزید نے مکہ معظمہ کا محاصرہ کرکے کعبہ معظمہ پر پتھر برسائے تو آپ کے ایک پتھر لگا اس سے حطیم شریف میں نماز پڑھتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا یہ واقعہ ربیع الاول ۶۴ھ؁∞ میں ہوا۔
۲
؎یعنی کسی واقعہ پر مجھے پتھر اٹھانا پڑا صرف تہبند بندھا تھا وہ گر گیا جس سے آپ بالکل برہنہ ہوگئے ہاتھ گرے ہوئے تھے،اس لیے آپ تہبند نہ اٹھا سکے۔
۳
؎عراۃعاری کی جمع ہے اور قاضی کی قضاۃ ناحی کی نحاۃ یہ حکم عام ہے کہ کوئی باہوش شخص اگرچہ بالغ نہ ہو ننگا نہ رہے نہ پھرے ستر ڈھانپنا فرض ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3122