- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- نکاح کا بیان
- حدیث نمبر 3303
باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3303
نکاح کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّ جَارِيَةً كَانَتْ لِي تَرْعَى غَنَمًا لِي، فَجِئْتُهَا وَقَدْ فُقِدَتْ شَاةٌ مِنَ الْغَنَمِ، فَسَأَلْتُهَا عَنْهَا فَقَالَتْ: أَكَلَهَا الذِّئْبُ، فَأَسِفْتُ عَلَيْهَا وَكُنْتُ مِنْ بَنِي آدَمَ، فَلَطَمْتُ وَجْهَهَا، وَعَلَيَّ رَقَبَةٌ، أَفَأُعْتِقُهَا؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَيْنَ اللَّهُ؟ " فَقَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، فَقَالَ: "مَنْ أَنَا؟ فَقَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللّٰهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَعْتِقْهَا". رَوَاهُ مَالِكٌ. وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ قَالَ: كَانَتْ لِي جَارِيَةٌ تَرْعَى غَنَمًا لِي قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ، فَاطَّلَعْتُ ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا الذِّئْبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِنَا،وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي آدَمَ آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ، لَكِنْ صَكَكْتُهَا صَكَّةً، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أفَلَا أُعْتِقُهَا؟ قَالَ: "ائتِني بهَا؟ " فأتيتُه بِهَا فَقَالَ لَهَا: "أَيْنَ اللَّهُ؟ " قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، قَالَ: "مَنْ أَنَا؟ " قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللّٰهِ قَالَ: "أعْتِقْهَا فإنَّها مُؤْمِنَةٌ".
عن معاوية بن الحكم قال: أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقلت: يا رسول الله! إن جارية كانت لي ترعى غنما لي، فجئتها وقد فقدت شاة من الغنم، فسألتها عنها فقالت: أكلها الذئب، فأسفت عليها وكنت من بني آدم، فلطمت وجهها، وعلي رقبة، أفأعتقها؟ فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أين الله؟ " فقالت: في السماء، فقال: "من أنا؟ فقالت: أنت رسول الله، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أعتقها". رواه مالك. وفي رواية مسلم قال: كانت لي جارية ترعى غنما لي قبل أحد والجوانية، فاطلعت ذات يوم فإذا الذئب قد ذهب بشاة من غنمنا،وأنا رجل من بني آدم آسف كما يأسفون، لكن صككتها صكة، فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فعظم ذلك علي قلت: يا رسول الله! أفلا أعتقها؟ قال: "ائتني بها؟ " فأتيته بها فقال لها: "أين الله؟ " قالت: في السماء، قال: "من أنا؟ " قالت: أنت رسول الله قال: "أعتقها فإنها مؤمنة".
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت معاویہ ابن حکم سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا یارسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم میری لونڈی میری بکریاں چراتی تھی ۲؎میں اس کے پاس گیا تو ایک بکری گم پائی میں نے اسے بکری کے متعلق پوچھا تو وہ بولی کہ اسے بھیڑیا کھا گیا ۳؎میں اس پر بہت غصے ہوا میں آدمی ہوں میں نے اس کے منہ پر تھپڑ مار دیا اور مجھ پر ایک غلام آزاد کرنا ہے ۴؎کیا اسے آزاد کردوں تو اس سے رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اﷲکہاں ہے وہ بولی آسمان میں ۵؎پھر فرمایا میں کون ہوں،بولی آپ اﷲکے رسول ہیں رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اسے آزاد کردو ۶؎(مالک)اور مسلم کی روایت میں ہے فرماتے ہیں میری ایک لونڈی تھی جو میری بکریاں احد اور جوانیہ کی طرف چراتی تھی ۷؎ایک دن میں اچانک وہاں گیا تو بھیڑیا ہماری بکریوں میں سے ایک بکری لے گیا تھا۸؎اور میں اولاد آدم سے ایک شخص ہوں جیسے سب غمگین ہوتے ہیں میں بھی غمگین ہوتا ہوں لیکن میں نے اسے صرف ایک تھپڑ مار دیا ۹؎میں رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے اسے مجھ پر بڑا جرم قرار دیا۱۰؎میں نے عرض کیا یارسول اﷲکیا میں اسے آزاد نہ کردوں ۱۱؎فرمایا اسے میرے پاس لاؤ تو میں اسے لایا تو آپ نے فرمایا اﷲکہاں ہے وہ بولی آسمان میں فرمایا میں کون ہوں بولی آپ رسول اﷲہیں فرمایا اسے آزاد کردو یہ مؤمنہ ہے ۱۲؎
شرح حدیث
۱∞؎آپ سلمی ہیں صحابی ہیں مدینہ منورہ میں رہنے سہنے لگے تھے، ۱۱۷ھ ∞ میں وصال ہوا۔(کمال و مرقات)
۲؎یعنی لونڈی بھی میری تھی بکریاں بھی میری ہی چراتی تھیں کسی اور کی مزدوری نہ کرتی تھی لونڈی پر پردہ لازم نہیں کیونکہ وہ پردے میں رہ کر مولے کی خدمت نہیں کرسکتی۔
۳؎یعنی اس نے بڑا قصور یہ کیا مجھے اس واقعہ کی خبر نہ دی بکری بھیڑیا لے گیا میرے پوچھنے پر بتایا ورنہ مجھے اتنا غصہ نہ آتا۔
۴؎اس مارنے کی وجہ سے نہیں کسی اور وجہ سے کفارہ واجب ہوچکا ہے جس میں غلام آزاد کرنا مجھ پر لازم ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ جو کوئی اپنے غلام کو مار دے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ ا سے آزاد کردے یہ حکم صرف استحبابی ہے یہاں یہ کفارہ مراد نہیں جیسا کہعلیّسے معلوم ہورہا ہے۔ احادیث میں ہے کہ یہ لونڈی گونگی تھی یہ تمام گفتگو اس نے اشارہ سے کی۔ اس روایت کی بنا پر امام شافعی فرماتے ہیں کہ کفارہ میں گونگے غلام کا آزاد کرنا جائز ہے،خیال رہے کہ عربی میں اشارۃً کلام کرنے کو بھی کہنا کہہ دیتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَقُوۡلِیۡۤ اِنِّیۡ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُکَلِّمَ الْیَوْمَ اِنۡسِیًّا"یعنی اے مریم اشارہ سے کہہ دینا کہ میرا چپ کا روزہ ہے میں کسی سے کلام نہ کروں گی۔
۵؎یہ سوال و جواب اﷲتعالٰی کی جگہ کے متعلق نہیں وہ تو جگہ میں رہنے سے پاک ہے بلکہ سرکار نے اس چیز کی تحقیق فرمائی کہ یہ لونڈی مشرکہ نہیں بتوں کو خدا نہیں کہتی،اگر مشرکہ ہوتی تو ان ہی بتوں کوالہکہہ دیتی۔
۶؎کیونکہ یہ مؤمنہ ہے جیسا کہ اگلی روایت میں آرہا ہے۔اس حدیث کی بنا پر امام شافعی فرماتے ہیں کہ کفارات وغیرہ میں صرف مؤمنہ غلام لونڈی آزاد ہوسکتی ہے،امام اعظم کے ہاں ہر غلام آزاد کیا جاسکتا ہے خواہ مؤمن ہو یا کافر،سرکار عالی کا یہ امتحان لے کر فرمانا کہ اسے آزاد کردو بیان استحباب کے لیے ہے یعنی مؤمن غلام کا آزاد کرنا کافر غلام آزاد کرنے سے افضل ہے۔امام اعظم کے بقیہ دلائل پہلے عرض کیے جاچکے ہیں کہ قرآن کریم نے کفارہ قتل کے سواء کسی کفارہ میں مؤمن غلام کی قید نہ لگائی اور قرآن شریف کے مطلق احکام کو ان کے اطلاق پر رکھنا ضروری ہے۔
۷؎احد مدینہ منورہ کا مشہور پہاڑ ہے جو مدینہ پاک سے تین میل فاصلہ پر ہے اور جوانیہ احد کے قریب جنگل کا نام ہے جو مدینہ منورہ سے جانب شمال ہے احد سے متصل۔
۸؎میرے سامنے نہ لے گیا بلکہ بکریاں شمار کرنے پر معلوم ہوا کہ ایک بکری کم ہے،لونڈی سے پوچھنے پر پتہ لگا کہ بھیڑیا لے گیا لہذا یہ روایت گزشتہ روایت کے خلاف نہیں۔
۹؎لکنسے پہلے ایک مختصر سی عبارت پوشیدہ ہے یعنی دل تو چاہا کہ لونڈی کو سخت سزا دوں کیونکہ میرا بہت نقصان ہوگیا تھا مگر میں نے ایک تھپڑ مارنے پر ہی کفایت کی۔
۱۰؎یعنی آپ نے فرمایا کہ تم نے بڑا گناہ کیا کیونکہ بے قصور لونڈی کو تھپڑ مار دیا یہ حق العبد ہے جو توبہ سے بھی معاف نہیں ہو سکتا،مگر قصاص دینے کا حکم نہ فرمایا کیونکہ مولے سے لونڈی کا قصاص نہیں لیا جاتا۔اس سے معلوم ہوا کہ بے قصور کو سزا دینا گناہ ہے اگرچہ استاذ یا پیر یا مولے یا آقا ہی کیوں نہ دے اس سے موجودہ زمانہ کے حکام آقاؤں کو عبرت پکڑنی چاہیے۔
۱۱؎تاکہ یہ آزاد کرنا میرے اس گناہ کا کفارہ بھی ہوجائے اور میرے ذمہ ایک دوسرا کفارہ ہے جس میں غلام آزاد کرنا مجھ پر واجب ہے وہ بھی ادا ہوجائے لہذا یہ روایت گزشتہ روایت کے خلاف نہیں یہ مطلق گزشتہ مقید پر محمول کیا جائے گا۔(مرقات)خیال رہے کہ غلام کو بلا قصور مار دینے پر اس کا آزاد کرنا واجب نہیں،نہ کوئی اس کا کفارہ ہے صرف مستحب ہے لہذا اس روایت پر یہ اعتراض نہیں کہ دو کفاروں میں ایک غلام کیسے آزاد کرایا گیا۔(مرقات)
۱۲؎اس سے معلوم ہوا کہ ایمان اجمالی معتبر ہے،دیکھو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس لونڈی سے ایمانیات کی تفصیل نہ پوچھی صرف توحید و رسالت کے اقرار کو تمام ایمانیات کا اقرار مانا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3303