Main Icon

باب :التحیات میں دعا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 939

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ يَقُولُ: « اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ» فَقَالَ لَهٗ قَائِلٌ مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيْذُ مِنَ الْمَغْرَمِ فَقَالَ: «إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يدعو في الصلاة يقول: « اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا وفتنة الممات اللهم إني أعوذ بك من المأثم والمغرم» فقال له قائل ما أكثر ما تستعيذ من المغرم فقال: «إن الرجل إذا غرم حدث فكذب ووعد فأخلف»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نماز میں دعا مانگتے تھے کہتے تھے الٰہی میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے ۱؎اور تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کے فتنہ سے۲؎اور تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی ا ور موت کے فتنوں سے ۳؎الہی میں تیری پناہ مانگتا ہوں گناہ اور قرض سے ۴؎کسی نے عرض کیا ۵؎حضور قرض سے اتنی زیادہ پناہ مانگتے ہیں تو فرمایا کہ آدمی جب مقروض ہوتا ہے بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے تو خلاف کرتا ہے۶؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎عذاب قبر کی تحقیق پہلے کی جاچکی ہے معتزلی فرقہ اس کا منکر ہے یہ حدیث ان کی پوری تردید ہے عذاب قبر میں وہاں کی وحشت، دہشت، تنگی گرمی سبھی داخل ہیں الله سب سے بچائے۔
۲
؎دجالدَجْلٌسے بنا، بمعنی فریب، دجال فریبی اور مکار، مسیح یامَسْحٌسے ہے یامساحۃٌ،سےمَسْحٌچھونا،مساحۃٌناپنا یا سیر کرنا، چونکہ دجال کی ایک آنکھ ممسوح یعنی پونچھی ہوئی ہے یا چونکہ وہ سوائے حرمین شریفین کے باقی ساری دنیا کی سیر کرے گا لہذا اسے مسیح کہا جاتا ہے۔ خیال رہے کہ عیسی علیہ السلام کو مسیح اس لیے کہتے ہیں کہ آپ مردے کو چھو کر زندہ کرتے اور بیمار کو چھو کر تندرست یا اس لیے کہ آپ نے کہیں گھر نہ بنایا ہمیشہ سفر میں رہے۔ مسیح دجال کی پوری تحقیقان شاء اللهدجال کے باب میں کی جائے گی۔
۳
؎سُبْحَانَ اللّٰهِ !کیسا جامع کلمہ ہے، کفر، گمراہی، گناہ وہ آفتیں جو رب سے غافل کردیں وہ مال، اولاد، سلطنت جو سرکش کردے سب زندگی کے فتنہ ہیں، موت کے وقت شیطانی وسوسے، منکر و نکیر کے سوالات میں ناکامی یہ سب موت کے فتنے ہیں۔
۴
؎گناہ سے مراد چھوٹے بڑے سارے گناہ اور گناہوں کے اسباب ہیں۔ قرض سے مراد وہ قرض ہے جو گناہ کے لیے لیا جائے یا وہ جو مقروض پر بوجھ بنے اور اس کے ادا ہونے کی کوئی صورت نظر نہ آئے۔ حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے عبادتوں کے لیے قرض لیا اور صدیق اکبر نے آپ کی وفات کے بعد سارا چھوڑا ہوا قرض ادا کر دیا لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جب حضور علیہ السلام یہ دعا مانگتے تھے تو آپ پر قرض کیوں ہوتا تھا۔
۵
؎یہ عرض کرنے والی خود حضرت عائشہ صدیقہ تھیں جیسا کہ نسائی شریف میں ہے۔(مرقاۃ)
۶
؎یعنی قرض بہت سے گناہوں کا ذریعہ ہے عمومًا مقروض قرض خواہ کے تقاضے کے وقت جھوٹ بھی بولتے ہیں کہ گھر میں چھپ کر کہلوا دیتا ہے کہ وہ گھر پر نہیں اور اگر پکڑے گئے تو کہہ دیا ہمارا مال آنے والا ہے جلدی دیں گے، وعدہ خلافی بھی کرتے ہیں کہ کل لے جانا مگر دیتے نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 939