Main Icon

باب :التحیات میں دعا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 942

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهٗ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهٖ فِي صَلَاتِي قَالَ: «قُلْ اَللّٰهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِيْ إِنَّك أَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيمُ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي بكر الصديق رضي الله عنه أنه قال: قلت يا رسول الله علمني دعاء أدعو به في صلاتي قال: «قل اللهم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا ولا يغفر الذنوب إلا أنت فاغفر لي مغفرة من عندك وارحمني إنك أنت الغفور الرحيم» (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیے جو اپنی نماز میں مانگا کروں ۱؎فرمایا کہو الٰہی میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا۲؎اور تیرے سوا گناہ کوئی نہیں بخش سکتا۳؎تو اپنی طرف سے میری بخشش کر مجھ پر رحم کر تو بخشنے والا مہربان ہے۔(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی نماز کے آخر میںالتحیاتو درودوں سے فارغ ہو کر کیونکہ اس کے علاوہ نماز میں اور کوئی وقت دعا کا نہیں۔ ظاہر یہ ہے کہ نماز سے نفل نماز مراد ہے اگر فرائض میں بھی کبھی کبھی یہ دعائیں مانگے تو بہتر ہے۔
۲
؎صدیق اکبر سے یہ الفاظ کہلوانا یا آدم علیہ السلام کا کہنا"رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا"یا یونس علیہ السلام کا عرض کرنا"اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ"انتہائی درجہ کا انکسار نفس ہے۔ یہاں ظلم کے وہ معنی کیے جائیں جو ان کی شان کے لائق ہوں، کافر کا ظلم کفر ہے، ہمارا ظلم گناہ، اولیاء اور انبیاء کا ظلم لغزشیں اور خطائیں۔ جو شخص ان کلمات کو سن کر ان کی شان میں گستاخی کرے وہ بے دین ہے۔ بعض صوفیاء کو فرماتے ہوئے سنا گیا کہ کبھی جھوٹ محبوبیت کا ذریعہ بن جاتا ہے اور سچ مردودیت کا سبب، شیطان نے سچ کہا تھا کہ خدایا تو نے مجھے گمراہ کیا،ھادیومضلّرب ہی ہے مگر اس سچ سے شیطان مارا گیا، وہ محبوب بندے جو گناہ کے قریب بھی نہ گئے ان کا یہ عرض کرنا کہ خدایا ہم بڑے گنہگار ہیں ہے جھوٹ مگر تقرب کا ذریعہ حضرت صدیق اکبر نے کبھی گناہ کا ارادہ بھی نہیں کیا۔
۳
؎خیال رہے کہ حقوق العباد بندہ بخشتا ہے مگر گناہ صرف رب ہی بخش سکتا ہے، جہاں انبیائے کرام فرما دیتے ہیں کہ جا تیرے سارے گناہ معاف۔ وہ رب کی طرف سے کہتے ہیں زبان ان کی ہوتی ہے کلام رب کا لہذا اس حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 942