Main Icon

باب :التحیات میں دعا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 946

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَا يَجْعَلْ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِهٖ يَرٰى أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهٖ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرًا يَنْصَرِفُ عَنْ يَسَارِهٖ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عبد الله بن مسعود قال: لا يجعل أحدكم للشيطان شيئا من صلاته يرى أن حقا عليه أن لا ينصرف إلا عن يمينه لقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم كثيرا ينصرف عن يساره (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی اپنی نماز سے شیطان کا حصہ نہ بنائے یہ سمجھے کہ اس پر واجب ہے کہ ہمیشہ دائیں جانب ہی پھرا کرے ۱؎میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو بہت دفعہ بائیں جانب پھرتے دیکھا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی یہ اعتقاد رکھنا کہ نماز کے بعد امام پر داہنی جانب پھرکر بیٹھنا واجب ہے اور بائیں طرف پھرنا جائز ہی نہیں غلط عقیدہ ہے،ایسا سمجھنے والا اپنی عبادتوں میں شیطان کا حصہ رکھ ر ہا ہے کیونکہ غلط عقیدہ رکھ کر نماز پڑھنا نماز کے نقصان کا باعث ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ غیر ضروری چیز کو فرض سمجھنا یونہی مباح کو حرام جاننا فساد عقیدہ ہے۔اسی حدیث میں اشارۃً فرمایا کہ اگر کوئی امام ہمیشہ داہنی جانب پھرے لیکن اسے واجب نہ سمجھے تو کوئی مضائقہ نہیں جیسا کہیَرَیسے معلوم ہوا،لہذا میلاد شریف یا گیارھویں مستحب جان کر ہمیشہ کرنا ناجائز نہیں، واجب سمجھنا اور ہے اور کسی کام کو ہمیشہ کرنا کچھ اور ہم ہمیشہ جمعہ کو غسل اور لباس تبدیل کرتے ہیں ہمیشہ رمضان میں دینی مدارس کی چھٹیاں کرتے ہیں مگر واجب نہیں جانتے، کوئی مضائقہ نہیں۔سرکار فرماتے ہیں کہ بہتر کام وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے۔
۲
؎یہ بہت اضافی نہیں بلکہ حقیقی ہے کیونکہ حضورصلی الله علیہ وسلم اکثر داہنی جانب پھرتے تھے کم بائیں جانب جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 946