Main Icon

باب :التحیات میں دعا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 953

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ عَنْ الْمُغِيرَةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَا يُصَلِّي الْإِمَامُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي صَلّٰى فِيهِ حَتّٰى يتَحَوَّلَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ عَطَاءُ الْخُرَاسَانِيْ لَمْ يُدْرِكَ الْمُغِيْرَةَ

وعن عطاء الخراساني عن المغيرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا يصلي الإمام في الموضع الذي صلى فيه حتى يتحول» . رواه أبو داود وقال عطاء الخراساني لم يدرك المغيرة

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عطاء خراسانی سے ۱؎وہ حضرت مغیرہ سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ امام وہاں نماز نہ پڑھے جہاں فرض پڑھے ہیں حتی کہ کچھ ہٹ جائے ۲؎(ابوداؤد)اور فرمایا کہ عطاء خراسانی نے مغیرہ کو نہ پایا ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ تابعی ہیں،بلخی ہیں، ۵۰ھ میں پیدا ہوئے اور ایک سو پینتیس۱۳۵ میں وفات پائی۔ ابو حاتم کہتے ہیں کہ آپ ثقہ تھے۔
۲
؎یہ حکم امام اور مقتدیوں دونوں کے لیے ہے کہ جہاں جماعت سے فرض پڑھے وہاں سے کچھ ہٹ کر سنتیں وغیرہ پڑھے مگر چونکہ زیادہ بھیڑ میں مقتدی نہیں ہٹ سکتے اس لیے صرف امام کا ذکر فرمایا گیا۔ یہ حکم استحبابی ہے تاکہ چند جگہ عبادت ہو اور وہ مقامات قیامت میں اس کی گواہی دیں،نیز آنے والے کو دھوکہ نہ لگے کہ ابھی فرض ہورہے ہیں۔
۳
؎کیونکہ حضرت مغیرہ عطاء خراسانی کی ولادت کے سال فوت ہوگئے یعنی ۵۰ ھ میں لہذا یہ حدیث منقطع ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 953