Main Icon

باب :التحیات میں دعا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 941

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هٰذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ يَقُولُ: «قُولُوا أَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُبِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن ابن عباس رضي الله عنهما: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يعلمهم هذا الدعاء كما يعلمهم السورة من القرآن يقول: «قولوا أللهم إني أعوذ بك من عذاب جهنم وأعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال وأعوذبك من فتنة المحيا والممات». رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم انہیں یہ دعا ایسے سکھاتے تھے جیسے قرآن کی سورۃ سکھاتے تھے فرماتے تھے کہو اے الله میں تیری پناہ مانگتا ہوں دوزخ کے عذاب سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح الدجال کے فتنہ سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کی فتنہ سے ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ تمام دعائیں امت کی تعلیم کے لیے ہیں ورنہ انبیائے کرام عذاب قبر تو کیا حساب قبر سے بھی محفوظ ہیں،اسی طرح جو ان کے دامن میں آجائے وہ زندگی اور موت کے فتنوں سے محفوظ ہوجاتا ہے،آپ کے نام کی برکت سے لوگوں کو دجال کے فتنوں سے امن ملے گی جہاں کہیں حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ میں فلاں چیز سے تیری پناہ مانگتا ہوں وہاں امت کے لیے پناہ مراد ہے۔(مرقات وغیرہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 941