Main Icon

باب:کتے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4098

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ ضَارٍ، نَقَصَ مِنْ عَمَلِهٖ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من اقتنى كلبا إلا كلب ماشية أو ضار، نقص من عمله كل يوم قيراطان". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو جانوروں یا شکاری کتے کے سواء ۱؎کوئی اور کتا پالے تو روزانہ اس کے عمل سے دو دانگ کم ہوں گے۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جانوروں کی حفاظت یا شکار کے لیے کتا پالنا بالکل درست ہے جس سے کوئی بُرا اثر نہیں پڑا۔ضاراصل میںضاریتھا،ی تخفیف کر کے گرادی گئی تھی،ضاریبنا ہےضریسے بمعنی بھڑکاناضاریبمعنی شکار کو بھڑکانے والا کتا یعنی شکاری کتا۔
۲
؎عمل سے مراد نیک اعمال کا ثواب ہے نہ کہ اصل عمل کیونکہ مذہب اہل سنت یہ ہے کہ کسی گناہ کی وجہ سے نیکی برباد نہیں ہوتی نیکیاں صرف کفر سے برباد ہوتی ہیں اور کتا پالنا گناہ ہے کفر نہیں۔مطلب یہ ہے کہ نیکیوں کا جو ثواب کتا نہ پالنے والے کو ملتا ہے وہ کتا پالنے والے کو نہیں ملتا،اس کمی کی وجہ یہ ہے کہ ایسے کتے سے رحمت کے فرشتے گھر میں نہیں آتے یا اس لیے کہ کتے سے لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے یا اس لیے کہ کتے والے گھر کے برتن اور کپڑے مشکوک ہوتے ہیں کہ کبھی کتا یہ چیزیں چاٹ لیتا ہے گھر والوں کو خبر نہیں ہوتی لہذا جتنی یقینی پاکی وطہارت بغیر کتے والے گھر میں ہوتی ہے ایسی طہارت کتے والے گھر میں نہیں ہوتی یہ تحقیق ضرور خیال میں رکھی جائے۔(مرقات)بہرحال نیکیوں سے تو گناہ مٹتے ہیں"اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲)" مگر گناہوں سے نیکیاں کبھی نہیں مٹتیں وہ صرف کفر سے مٹتی ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ"۔ قیراط ایک خاص وزن کا نام ہے،یہاں قیراط فرمانا سمجھانے کے لیے ہے ورنہ ثواب اعمال یہاں کے باٹوں سے نہیں تولا جاتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4098