Main Icon

باب:کتے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4103

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: نَهٰى رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّحْرِيشِ بَيْنَ الْبَهَائِمِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

وعن ابن عباس قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن التحريش بين البهائم. رواه الترمذي وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جانور لڑوانے سے منع فرمایا ۱؎(ترمذی،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اللہ تعالٰی رحم فرمائے،آج مسلمانوں میں مرغ لڑانا،کتے لڑانا،اونٹ،بیل لڑانے کا بہت شوق ہے یہ حرام سخت حرام ہے کہ اس میں بلا وجہ جانوروں کو ایذاء رسانی ہے،اپنا وقت ضائع کرنا۔بعض جگہ مال کی شرط پر جانور لڑائے جاتے ہیں یہ جوا بھی ہے حرام درحرام ہے۔جب جانوروں کو لڑانا حرام ہے تو انسان کو لڑانا سخت حرام ہے۔خیال رہے کہ اسلامی فوج کو کفار سے لڑانا جہاد ہے،یونہی مشن کے لیے تیاری اور جہاد کے لیے کشتی لڑنا اور لڑانا جہاد کی تیاری ہے یہ دونوں کام عبادت ہیں،مسلمانوں کی آپس میں جنگ کرانا یہ حرام ہے،لڑانا اور چیز ہے،کشتی اور جہاد اور چیز۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4103