Main Icon

باب:کتے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4100

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ حتّٰى إِنَّ الْمَرأَةَ تَقْدَمُ مِنَ البَادِيَةِ بِكَلْبِهَا فَنَقْتُلَهٗ، ثُمَّ نَهٰى رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهَا وَقَالَ: "عَلَيْكُمْ بِالأَسْوَدِ الْبَهِيمِ ذِي النُّقْطَتَيْنِ فَإِنَّهٗ شَيْطَانٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن جابر قال: أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بقتل الكلاب حتى إن المرأة تقدم من البادية بكلبها فنقتله، ثم نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن قتلها وقال: "عليكم بالأسود البهيم ذي النقطتين فإنه شيطان". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کتے ہلاک کردینے کا حکم دیا ۱؎حتی کہ ایک عورت دیہات سے اپنا کتا ساتھ لاتی تو ہم اسے قتل کردیتے تھے۲؎پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے قتل سے منع فرمادیا اور فرمایا کہ تم کالےبھجنگے دو داغ والے کو قتل کرو۳؎کہ وہ شیطان ہے۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎عام کتے یا خاص کتے مدینہ منورہ کے مار ڈالنے کا حکم دیا کیونکہ مدینہ منورہ نزول وحی کی جگہ ہے وہاں ایسی گندی چیز کی موجودگی اچھی نہیں۔
۲
؎عورت کا ذکر اتفاقی ہے کہ اکثر عرب عورتیں ہی کتے ساتھ رکھتی تھیں۔مطلب یہ ہے کہ جو باہر کا کتا مدینہ منورہ میں آجاتا ہم اس کو بھی نہ چھوڑتے تھے،اس کی مالکہ کے بغیر اذن ہی اسے مار دیتے تھے۔معلوم ہوا کہ ناجائز کتا،سؤر،شراب،جوئے کا سامان وغیرہ یوں ہی طبلہ،سارنگی وغیرہ ناجائز و حرام گانےکے آلات مالک کے بغیر اجازت بھی ضائع کیے جاسکتے ہیں اس میں ضائع کرنے والے پر تاوان نہیں،یہ حدیث بہت سے احکام کی ماخذ ہے۔
۳
؎اسودکالا اوربہیمخالص کالا جس میں اور کوئی رنگ نہ ہو،ذوالنقطتینوہ کتا یا سانپ جس کی آنکھوں کے اوپر دو داغ ہوں یہ زیادہ خطرناک ہوتا ہے اور ڈراؤنا بھی،اس قسم کا سانپ تو بہت ہی خطرناک ہے،کتا دیوانہ ہوکر سانپ سے زیادہ خطرناک ہوجاتا ہے کہ دیوانے کتے کا کاٹا ہوا اگر کسی کو کاٹ لے تو وہ بھی ویسا ہی ہوجاتا ہے اور دیوانے کتے کا کاٹا خود دیوانہ ہوکر بڑی مصیبت سے بہت عرصہ میں مرتا ہے،کتے کی طرح خود بھونکتا ہے۔
۴
؎یعنی ایسا کتا نقصان و ضرر میں شیطان کی طرح ہے۔مرقات نے فرمایا کہ اسلام میں پہلے تمام کتوں کے قتل کا حکم دیا گیا پھر صرف کالے آنکھوں پر داغ والے کتے کے قتل کا حکم رہا،تمام کتوں کے قتل کا حکم منسوخ ہوا،اب حکم یہ ہے کہ بے ضرر کتوں کے قتل کا حکم منسوخ ہے خواہ کالے ہوں یا کچھ اور ضرر والے خصوصًا دیوانے کتے کا قتل ضروری ہے اور بلاضرورت کتا پالنا منع ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4100