Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2109

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ عُثْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهٗ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

عن عثمان قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "خيركم من تعلم القرآن وعلمه". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عثمان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم میں بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے ۱؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎قرآن سیکھنے سکھانے میں بہت وسعت ہے بچوں کو قرآن کے ہجے روزانہ سکھانا،قاریوں کا تجوید سیکھنا سکھانا،علماء کا قرآنی احکام بذریعہ حدیث وفقہ سیکھنا سکھانا صوفیائے کرام کا اسرار و رموز قرآن بسلسلہ طریقت سیکھنا سکھانا سب قرآن ہی کی تعلیم ہے صرف الفاظ قرآن کی تعلیم مراد نہیں،لہذا یہ حدیث فقہاء کے اس فرمان کے خلاف نہیں کہ فقہ سیکھنا تلاوت قرآن سے افضل ہے کیونکہ فقہ احکام قرآن ہے اور تلاوت میں الفاظ قرآن چونکہ کلام اللہ تمام کلاموں سے افضل ہے لہذا اس کی تعلیم تمام کاموں سے بہتر اور اسرار قرآن الفاظ قرآن سے افضل ہیں کہ الفاظ قرآن کا نزول حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے کان مبارک پر ہوا اور اسرار و احکام کا نزول حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پرہوا،تلاوت سے علم فقہ افضل رب تعالٰی فرماتاہے:"نَزَّلَہٗ عَلٰی قَلْبِکَ"عمل بالقرآن علم قرآن کے بعد ہے لہذا عالم عامل سے افضل ہے آدم علیہ السلام عالم تھے فرشتے عامل مگر حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام افضل مسجود رہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2109