Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2131

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَلَمْ تَرَ آيَاتٍ أُنْزِلَتِ اللَّيْلَةَ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قَطُّ: قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ و قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن عقبة بن عامر قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ألم تر آيات أنزلت الليلة لم ير مثلهن قط: قل أعوذ برب الفلق و قل أعوذ برب الناس ". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیاتم دیکھتے نہیں کہ آج رات وہ آیتیں اتری ہیں جس کی مثل دیکھی نہ گئیں ۱؎"قل اعوذ برب الفلق" اور"قل اعوذ برب الناس؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اَلَم تَرَمیں عام مسلمانوں سے خطاب ہے اور یہ فرمان اظہار تعجب یا ان سورتوں کی اہمیت دکھانے کے لیے ہے یعنی تعوذ اور پناہ لینے کے متعلق جتنی آیتیں ہیں ان سب میں یہ سورتیں افضل ہیں،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہقُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌتو ان سورتوں سے بھی افضل ہے۔
۲
؎اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ بسم اللہ سورت کا جزء نہیں کہ یہاں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نےبسم اللهکا ذکر نہ فرمایاقل اعوذسے سورت کی ابتداء بتائی نیز پہلی وحیاقراباسم ربكہےبسم اللهوہاں بھی نہیں ہے۔دوسرے یہ کہ یہ دونوں سورتیں قرآن میں ہیں،اسی پر امت کا اجماع ہے لہذا جو انہیں قرآن نہ مانے وہ کافر ہے،وہ جو کہا گیا ہے کہ حضرت ابن مسعود اور ابی ابن کعب نے انہیں قرآن نہ مانا غلط ہے ان بزرگوں پر تہمت ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2131