Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2134

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ: اقْرَأْ وَارْتَقِ، وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا، فَإِنَّ مَنْزِلَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَؤُهَا". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

وعن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يقال لصاحب القرآن: اقرأ وارتق، ورتل كما كنت ترتل في الدنيا، فإن منزلك عند آخر آية تقرؤها". رواه أحمد والترمذي وأبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قرآن والے سے کہا جائے گا ۱؎پڑھ اور چڑھ ۲؎اور یوں ہی آہستگی سے تلاوت کر جیسے دنیا میں کرتا تھا آج تیرا ٹھکانہ و مقام وہاں ہے جہاں تو آخری آیت پڑھے۳؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎قرآن والے سے مر اد وہ مسلمان ہے جو ہمیشہ تلاوت کرتا ہو اور اس پر عامل ہو،وہ شخص نہیں جو قرآن پڑھتا ہو،اور قرآن اس پر لعنت کرتا ہو کہ یہ تلاوت تو عذاب الٰہی کا باعث ہے،بعض آریہ اور عیسائی بھی قرآن پاک پر اعتراضات کرنے کے لیے قرآن پاک پڑھتے بلکہ حفظ تک کرلیتے ہیں،پنڈت کالی چرن چودہ پاروں کا حافظ ہوا۔(مرقات)
۲
؎جنت کے درجات اوپر تلے ہیں جس قدر درجے کی بلندی،اسی قدر بہتران شاء اللهاس دن تلاوت قرآن مؤمن کے لیے پروں کا کام دے گی،یا اس سے مراتب قرب الٰہی میں ترقی کرنا مراد ہے،یعنی تلاوت کرتا جا اور مجھ سے قریب تر ہوتا جا۔
۳
؎یعنی جہاں تیرا پڑھنا ختم،وہاں تیرا چڑھنا ختم،وہاں اسی قدر تلاوت کرسکے گا جس قدر تلاوت دنیا میں کرتا تھا اور جس طرح آہستہ یا جلدی یہاں تلاوت کرتا تھا اسی طرح وہاں کرے گا۔اس سے چند مسائل معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جنت کے چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ درجے ہیں کیونکہ قرآن کریم کی آیات اتنی ہی ہیں اور ہر آیت پر ایک درجہ ملتا ہے،اگر درجے اس سے کم ہوں،تو یہ حساب کیسے درست ہو اور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان کے درمیان مرقات۔ دوسرے یہ کہ جنت میں کوئی عبادت نہ ہوگی سوائے تلاوت قرآن کے،مگر یہ تلاوت لذت اور ترقی درجات کے لیے ہوگی،جیسے فرشتوں کی تسبیح۔ تیسرے یہ کہ دنیا میں تلاوت قرآن کر یم کا عادی بعد موتان شاء اللهحافظ قرآن ہوجائے گا،ورنہ یہ شخص وہاں بغیر قرآن دیکھے سارا قرآن کیسے پڑھتا۔ چوتھے یہ کہ بغیر ترجمہ سمجھے بھی تلاوت بہت مفید ہے کہ یہاں تلاوت کو مطلق رکھا گیا۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ قرآن میں تفکر کرنا محض تلاوت سے افضل ہے،اسی لیے حضرت صدیق اکبر حفاظ صحابہ سے افضل ہوئے جنت میں ساری امت سے اونچے درجے میں وہ ہی ہوں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2134