Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2136

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "يَقُوْلُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالٰى: مَنْ شَغَلَهُ الْقُرْآنُ عَنْ ذِكْرِيْ وَمَسْأَلَتِيْ أَعْطَيْتُهٗ أفضَلَ مَا أُعْطِي السَّائِلِيْنَ، وَفَضْلُ كَلَامِ اللّٰهِ عَلٰى سَائِرِ الْكَلَامِ كَفَضْلِ اللّٰهِ عَلٰى خَلْقِهٖ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِيْ "شُعَبِ الإِيْمَانِ"، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ.

وعن أبي سعيد قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يقول الرب تبارك وتعالى: من شغله القرآن عن ذكري ومسألتي أعطيته أفضل ما أعطي السائلين، وفضل كلام الله على سائر الكلام كفضل الله على خلقه ". رواه الترمذي والدارمي والبيهقي في "شعب الإيمان"، وقال الترمذي: هذا حديث حسن غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ رب تعالٰی فرماتا ہے جسے قرآن مجید میرے دوسرے ذکر اور مجھ سے مانگنے سے روک دے ۱؎اسے میں مانگنے والوں سے زیادہ دوں گا۲؎اور اللہ تعالٰی کے کلام کی فضیلت تمام کلاموں پر ویسی ہی ہے جیسے اللہ کی عظمت اپنی خلق پر۳؎ترمذی دارمی،بیہقی شعب الایمان۴؎اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎قرآن سے مراد حفظ قرآن یا تلاوت قرآن یاتفکر و تدبر فی القرآن ہے۔یعنی جو حافظ یا قاری قرآن یا تجوید یاد کرنے میں عالم دین قرآن کریم سے مسائل مستنبط کرنے میں اتنا مشغول رہے کہ اسے دیگر وظیفے دعاؤں کا وقت ہی نہ ملے۔اسی طرح جو معلم تعلیم علوم قرآن کی مشغولیت کی وجہ سے درود وظیفے دعائیں نہ کرسکے یہاں دعاؤں وظیفوں سے مراد وہ دعائیں وظیفے ہیں جو قرآن مجید کے علاوہ ہیں ورنہ قرآن شریف میں خود بہت دعائیں وظیفے ہیں۔
۲
؎اعطیمتکلم کا صیغہ ہے اسی لیے سائلین منصوب آیا۔خیال رہے کہ رب تعالٰی سے دعائیں مانگنا صراحۃً اور صاف صاف بھیک مانگنا ہے مگر تلاوت قرآن یا تعلیم قرآن بالواسطہ بھیک ہے جیسے ہمارے دروازہ پر بھکاری کھڑے ہو کر ہماری تعریفیں کرتے ہیں کہ آپ بڑے سخی داتا ہیں یوں ہی درود شریف در پردہ دعا ہے بھکاری غنی کے بال بچوں کو دعائیں دے کر در پردہ بھیک مانگتے ہیں بچے جیتے رہیں جان مال کی خیر ہو،ہم بھی رب تعالٰی کے محبوب کو دعائیں دے دے کر اس سے بھیک مانگتے ہیں اسی لیے درود شریف کے متعلق بھی مشکوۃ شریف میں گزر چکا کہ جو شخص درود شریف میں مشغولیت کی وجہ سے دعا نہ مانگ سکے اس کے تمام ضروریات خود ہی پوری ہوں گے،دکھ،درد، رنج غم خود بخود ہی دفع ہوتے رہیں گے۔
۳
؎ظاہر یہ ہے کہ یہ جملہ بھی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا ہی فرمان عالی ہے یعنی کلام کی شان متکلم کی شان کے بقدر ہوتی ہے۔ ایک بات فقیر بے نوا کہے اس پر کوئی دھیان بھی نہیں دیتا وہ ہی بات بادشاہ کہے تو دنیا میں دھوم مچ جاتی ہے چونکہ کلام اللہ رب تعالٰی کا کلام ہے اس لیے تمام مخلوق کے کلام سے یقینًا افضل ہے،اسی طرح حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم بعد خدا تمام خلق سے افضل ہیں تو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی احادیت تمام خلق کے کلاموں سے بعد قرآن افضل ہوں گی۔
۴
؎اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں سوائے عطیہ عوفی کے کہ ان میں کچھ ضعف ہے مگر فضائل اعمال میں ضعیف حدیث بھی معتبر ہے۔خصوصًا جب کہ دوسری روایتوں یا قرآنی آیتوں سے اسے قوت پہنچ جائے اس حدیث کو دوسری اسنادوں سے قوت حاصل ہے اس لیے اسے ترمذی نے حسن فرمایا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2136