- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- قرآن کے فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 2114
باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2114
قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 2109
- 2110
- 2111
- 2112
- 2113
- 2114
- 2115
- 2116
- 2117
- 2118
- 2119
- 2120
- 2121
- 2122
- 2123
- 2124
- 2125
- 2126
- 2127
- 2128
- 2129
- 2130
- 2131
- 2132
- 2133
- 2134
- 2135
- 2136
- 2137
- 2138
- 2139
- 2140
- 2141
- 2142
- 2143
- 2144
- 2145
- 2146
- 2147
- 2148
- 2149
- 2150
- 2151
- 2152
- 2153
- 2154
- 2155
- 2156
- 2157
- 2158
- 2159
- 2160
- 2161
- 2162
- 2163
- 2164
- 2165
- 2166
- 2167
- 2168
- 2169
- 2170
- 2171
- 2172
- 2173
- 2174
- 2175
- 2176
- 2177
- 2178
- 2179
- 2180
- 2181
- 2182
- 2183
- 2184
- 2185
- 2186
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِيْ مُوْسَى الأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِيْ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ،وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِيْ لَا يقْرَأ الْقُرْآن مَثَلُ التَّمْرِةِ لَا رِيْحَ لَهَا وَطَعْمُهَا حُلُوٌ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِيْ لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ، لَيْسَ لَهَا رِيْحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِيْ يقْرَأ الْقُرْآنَ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَفِيْ رِوَايَةٍ: "الْمُؤْمِنُ الَّذِيْ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَعْمَلُ بِهٖ كَالْأُتْرُجَّةِ، وَالْمُؤْمِنُ الَّذِيْ لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَعْمَلُ بِهٖ كَالتَّمْرَةِ".
وعن أبي موسى الأشعري قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "مثل المؤمن الذي يقرأ القرآن مثل الأترجة ريحها طيب،وطعمها طيب، ومثل المؤمن الذي لا يقرأ القرآن مثل التمرة لا ريح لها وطعمها حلو، ومثل المنافق الذي لا يقرأ القرآن كمثل الحنظلة، ليس لها ريح وطعمها مر، ومثل المنافق الذي يقرأ القرآن مثل الريحانة ريحها طيب وطعمها مر". متفق عليه.
وفي رواية: "المؤمن الذي يقرأ القرآن ويعمل به كالأترجة، والمؤمن الذي لا يقرأ القرآن ويعمل به كالتمرة".
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مؤمن کی مثال جو قرآن پڑھا کرتا ہے ترنج کی سی ہے ۱؎جس کی خوشبو بھی اچھی اور لذت بھی اعلیٰ ۲؎اور اس مؤمن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا چھوارے کی سی ہے جس میں خوشبو کوئی نہیں مزا میٹھا ہے۳؎اور اس منافق کی مثال جو قر آن نہیں پڑھتا،اندرائن(تمہ)کی سی ہے جس میں خوشبو کوئی نہیں اور مزا کڑوا ۴؎اور اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ریحان گھاس کی سی ہے جس کی خوشبو اچھی اور مزہ کڑوا ۵؎(مسلم،بخاری)اور ایک روایت میں یوں ہے کہ وہ مؤمن جو قرآن پڑھے اور اس پر عمل کرے ترنج کیطرح ہے ۶؎اور وہ مؤمن جو قرآ ن پڑھے تو نہیں اس پر عمل کرے چھوارے کی طرح ہے ۷؎
شرح حدیث
۱∞؎یعنی تلاوت قرآن کرتا رہتا ہے منزل نہیں چھوڑتا،معلوم ہوا کہ ہمیشہ تلاوت قرآن کرنا بہت بڑی عبادت ہے خواہ معنے سمجھے یا نہ سمجھے،ترنج عرب کا مشہور پھل ہے جس کا ر نگ بہت اچھا ہوتا ہے خوشبو نہایت اعلیٰ مزہ بہت بہترین،دماغ اور معدہ کو بہت قوت دیتا ہے اس کے بہت فوائد کتب طب میں مذکور ہیں۔
۲؎یہ ہی اس مؤمن کا حال ہے کہ لوگ اس کی تلاوت سے ایمانی لذت بھی حاصل کرتے ہیں اور ثواب بھی خود اسے بھی لذت و ثواب دونوں ملتے ہیں،قرآن شریف بہت ہی لذیذ چیز ہے۔
۳؎ایسے ہی یہ غافل مسلمان ہے کہ اس کا ظاہر خاص اچھا نہیں مگر باطن نور ایمانی سے منور ہے لوگ اس سے ظاہری فائدہ نہیں اٹھاتے مگر اس کی صحبت سے کچھ نہ کچھ باطنی فیض پالیتے ہیں مؤمن کی صحبت بھی اچھی ہے۔
۴؎اندرائن ایک مشہور کڑوا پھل ہے جس میں کسی قسم کی بو نہیں اور سخت کڑوا ہوتا ہے،منافق کا نہ ظاہر اچھا نہ باطن۔
۵؎یعنی بے دین جو ریاء کے لیے یا مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لیے قرآن پڑھے،اگر چہ خود تو بدمزہ ہے کہ منافق ہے مگر اس کی تلاوت سے سننے والوں کو کچھ نہ کچھ راحت ضرور مل جاتی ہے،جیسے ریحانہ گھاس(نیازبو) کہ ہے تو بدمزہ مگر اس کی خوشبو سے دماغ ضرور معطر ہوجاتا ہے۔ اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے ایک یہ کہ تلاوت قرآن کا اثر ظاہر و باطن میں ہوتا ہے کہ اس سے زبان، کان،دل،دماغ ایمان سب ہی تازہ ہوتے ہیں۔دوسرے یہ کہ قرآن پاک کی تاثیر یں مختلف ہیں جیسے پڑھنے والے کی زبان ویسے ہی تاثیر قرآن حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ نے انڈے پر"قل ھو الله"پڑھ کر دم کردیا تو سونا ہوگیا،اور فرمایا کہ کلام ربانی کے ساتھ زبان فرید ہونی چاہیے دیکھو یہاں مؤمن ومنافق کی تلاوتوں میں فرق فرمایا گیا پھر جیسا مؤمن ویسی ہی تلاوت کی تاثیر ۔تیسرے یہ کہ ہر تلاوت قرآن کرنے والے سے دھوکہ نہ کھاؤ ان میں کبھی منافق بھی ہوتے ہیں،قرآن کریم ریڈیو کی پیٹی ہے، تلاوت والے کے دل کی سوئی اگر شیطان کیطرف لگی ہوئی ہے تو اس کے سامنے تو قرآن ہوگا مگر اس کے منہ سے شیطان بولے گا اور اگر دل کی سوئی مدینہ پاک کی طرف ہے توان شاء اللهزبان سے مدینہ کے فیضان نکلیں گے۔
۶؎مرقات نے فرمایا کہ جس گھر میں ترنج ہو وہاں جنات نہیں آتے ایک شاعر کہتا ہے۔شعرکانكم شجر الا ترجّ طالب معا
حملا ونورًا وطاب العود والورق۷؎اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قرآن کی تلاوت بھی مستقل عبادت ہے اور اس پر عمل مستقل نیکی محبوب کا پیغام،وطن کا خط پڑھنے،سننے میں بھی مزہ آتا ہے اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ تلاوت قرآن محض بے کار ہے قر آن عمل کے لیے ہے نہ کہ پڑھنے کے لیے کیونکہ دوا کھانے پینے اور برتنے کے لیے ہوتی ہے محض نسخہ پڑھ لینے سے شفا نہیں ہوتی،ان بے وقوفوں کو خبر نہیں کہ بعض دواؤں کا سونگھنا مفید ہوتا ہے بعض کا محض دیکھنا فائدہ مند،سبزہ دیکھنے سے آنکھ کی روشنی بڑھتی ہے اور بعض دواؤں کے سننے سے فائدہ ہوتا ہے،بیمار عشق کے لیے محبوب کا ذکر سننا بہت مفید دوا ہے لیموں یا ترش چیزوں کا ذکر کرو تو منہ میں پانی بھر جاتا ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2114