Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2149

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ قَرَأَ حم الدُّخَانِ فِيْ لَيْلَةٍ، أَصْبَحَ يَسْتَغْفِرُ لَهٗ سَبْعُوْنَ أَلْفَ مَلَكٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ، وَعُمَرُ بْنُ خَثْعَمِ الرَّاوِيْ يُضَعَّفُ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ -يَعْنِي الْبُخَارِيَّ-: هُوَ مُنكِرُ الحَدِيْثِ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "من قرأ حم الدخان في ليلة، أصبح يستغفر له سبعون ألف ملك". رواه الترمذي، وقال: هذا حديث غريب، وعمر بن خثعم الراوي يضعف، وقال محمد -يعني البخاري-: هو منكر الحديث.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے جو رات میں سورہحٰمٓ الدخانپڑھے وہ اس طرح سویرا کرے گا کہ اس کے لیے ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کریں گے ۱؎ترمذی اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور عمر ابن خثعم راوی ضعیف مانےگئے ہیں امام محمد بخاری نے فرمایا وہ منکر الحدیث ہے۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اس کی تلاوت کے وقت سے صبح تک اتنے فرشتے اس کے لیے دعائیں مغفرت کرتے رہیں گے۔خیال رہے کہ اس دعا سے خصوصی دعا مراد ہے ورنہ حاملین عرش اور دوسرے فرشتے ہمیشہ ہی مؤمنوں کے لیے دعائیں کرتے رہتے ہیںرب تعالٰی فرماتاہے:"اَلَّذِیۡنَ یَحْمِلُوۡنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَہٗ یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَ یُؤْمِنُوۡنَ بِہٖ وَ یَسْتَغْفِرُوۡنَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَا وَسِعْتَ کُلَّ شَیۡءٍ رَّحْمَۃً وَّ عِلْمًا"لہذا یہ حدیث اس قرآنی آیت کے خلاف نہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سورۂ دخان پڑھنا ان معصوموں کی معصوم زبان سے دعائیں لینے کا ذریعہ ہے۔
۲
؎امام عسقلانی نے شرحنخبۃ الفکرمیں فرمایا کہ محدثین کی اصطلاح میں منکر الحدیث کہنا ضعیف کہنے سے زیادہ سخت ہے یعنی عمر ابن خثعم کو دوسرے محدثین نے تو ضعیف فرمایا مگر امام بخاری نے اسے منکر فرمایا یعنی ضعیف سے بھی سخت تر،خیال رہے کہ یہ حدیث فضائل اعمال کی ہے فضائل میں حدیث ضعیف قبول ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2149