Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2178

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مَعقِلِ بْنِ يَسَارٍ الْمُزَنِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "مَنْ قَرَأَ يس اِبْتِغَاءَ وَجْهِ اللّٰهِ تَعَالٰى غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهٖ،فَاقْرَؤُوْهَا عِنْدَ مَوْتَاكُمْ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِيْ "شُعَبِ الإِيْمَانِ".

وعن معقل بن يسار المزني أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "من قرأ يس ابتغاء وجه الله تعالى غفر له ما تقدم من ذنبه،فاقرؤوها عند موتاكم". رواه البيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معقل ابن یسار مزنی سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جو رضائے الٰہی کے لیے سورہ یٰس پڑھے اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۱؎لہذا اسے مرنے والے کے پاس پڑھا کرو۲؎(بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎یہ سورۃ یٰس کااخروی فائدہ ہے یعنی اس کی تلاوت کرنے والا دنیاوی آفات سے محفوظ رہے گا اور اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گےان شاء اللهکبیرہ گناہ بھی۔(مرقات)
۲
؎ظاہر یہ ہے کہ یہاں موتی سے مراد وہ ہے جس کی جان نکل رہی ہو،قریب الموت ہو،ایسی حالت میں سورہ یٰس تلاوت کرنے کا عام رواج ہے،اس کی اصل یہ حدیث ہے،چونکہ اس سورۃ سے مشکل بھی حل ہوتی ہے اور گناہ بھی معاف،اس لیے اس وقت سورۂ یٰس پڑھنا نہایت مناسب ہے اور ہوسکتا ہے کہ موتی سے مراد میت ہی ہو،یعنی قبر پر یا دفن سے پہلے سورہ یٰس پڑھا کرو پہلے معنے زیادہ موزوں ہیں(لمعات و مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2178