Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2130

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنِّيْ أُحِبُّ هٰذِهِ السُّوْرَةَ: قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ قَالَ: "إِنَّ حُبَّكَ إِيَّاهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَرَوَى البُخَارِيُّ مَعْنَاهُ.

وعن أنس قال: إن رجلا قال: يا رسول الله! إني أحب هذه السورة: قل هو الله أحد قال: "إن حبك إياها أدخلك الجنة". رواه الترمذي، وروى البخاري معناه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا ۱؎یارسول اللہ میں اس سورۃ"قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ"سے بڑی محبت کرتا ہوں سرکار نے فرمایا تیری یہ محبت تجھے جنت میں پہنچادے گی ۲؎(ترمذی)اور بخاری نے اس کے معنے کی روایت کی ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎اس عرض کرنے والے کا نام کلثوم یا کرزم ہے،پہلا قول زیادہ قوی ہے(مرقات)
۲
؎سبحان الله !کیسا مختصر اور جامع جواب ہے یعنی تو اس سورت سے محبت کی بناء پر اللہ کا پیارا بن جائے گااور اللہ کے پیارے کی جگہ جنت ہی تو ہے،بعض لوگ سورۂاَلَمْ نَشْرَحْ،وَالضُّحٰیاور سورۂفتح واحزابسے بڑی محبت کرتے ہیں اس لیے کہ یہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی نعت کی سورتیں ہیں،ان کی یہ محبت بھیان شاء اللهجنتی ہونے کا ذریعہ ہے۔
۳
؎یہ مصنف پر اعتراض ہے کہ اس نے پہلی فصل میں ترمذی کی حدیث نقل کی،حالانکہ بخاری میں اس کی مثل موجودتھی۔چنانچہ بخاری نے حضرت انس سے تعلیقًا ایک بڑا واقعہ روایت کیا کہ ایک انصاری مسجد قباء شریف میں امام تھے وہ ہر رکعت میںاَلْحَمْدپڑھ کر پہلے سورۂ اخلاص پڑھتے پھر دوسری سورت اس پر مقتدیوں نے اعتراض کیا،انہوں نے فرمایا کہ میں امامت چھوڑ دوں گا مگر سورۂ اخلاص پڑھنا نہیں چھوڑوں گا۔چونکہ وہ افضل صحابہ میں سے تھے اس لیے لوگ ان کی امامت کو غنیمت جانتے تھے،ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء کی زیارت کے لیے تشریف لائے تب یہ مقدمہ بارگاہ عالی میں پیش کیا گیا۔جس پر سرکار نے ان امام کا بیان لے کر یہ فیصلہ دیا۔(مرقات)اس حدیث کو بزاز اور بیہقی نے بھی روایت کیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2130