Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2180

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَقُوْل: "لِكُلِّ شَيْءٍ عَرُوْسٌ، وَعَرُوْسُ الْقُرْآنِ الرَّحْمَنُ".

وعن علي قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "لكل شيء عروس، وعروس القرآن الرحمن".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ ہر چیز کی ایک زینت ہے اور قرآن کی زینت سورہ رحمن ہے ۱؎

شرح حدیث

۱∞؎چند وجہ سے سورۂ رحمان کو قرآن کی دلہن،زینت،فرمایا گیا اس سورۃ میں الله تعالٰی کی ذات و صفات کا ذکر ہے اور ذات و صفات پر اعتقاد ایمان کی زینت ہے اس سورۃ میں جنت کی حوروں ان کے حسن و جمال ان کے زیورات کا ذکر ہے۔یہ چیزیں جنت کی زینت ہیں،اس سورۃ میں آیۃ کریمہ"فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ"ستائیس جگہ ارشاد ہوا اس سے سورۃ کی زینت زیادہ ہوگئی۔خیال رہے کہ عربی میں عروس دولہا کو بھی کہتے ہیں اور دلہن کو بھی یہ عرس سے بنا ہے،بمعنی شادی بارات،چونکہ دولہا دلہن کو نہایت آراستہ پیراستہ کیا جاتا ہے اس لیے پھر یہ لفظ بمعنی زینت و زیبائش استعمال ہونے لگا۔یہاں اسی مجازی معنے میں ارشاد ہوا ہے،جنت میں رب تعالٰی سورۂ رحمان کی تلاوت فرمائے گا جنتی سنیں گے،اس سننے سے جو لذت و سرور حاصل ہوگا،وہ بیان بلکہ گمان سے وراء آج اچھے قاری کی تلاوت سن کر لوگ لوٹ پوٹ ہوجاتے ہیں،تو رب تعالٰی کی تلاوت کیسی ہوگی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2180