Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2173

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَن جُبَير بنِ نُفَيرٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "إِنَّ اللّٰهَ خَتَمَ سُوْرَةَ الْبَقَرَةِ بِآيَتيْنِ، أُعْطِيْتُهُمَا مِنْ كَنْزِهِ الَّذِيْ تَحْتَ الْعَرْشِ، فَتَعَلَّمُوْهُنَّ وَعَلِّمُوْهُنَّ نِسَاءَكُمْ؛ فَإِنَّهَا صَلَاةٌ وقُرْبَانٌ وَدُعَاءٌ رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ مُرْسَلًا .

وعن جبير بن نفير أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "إن الله ختم سورة البقرة بآيتين، أعطيتهما من كنزه الذي تحت العرش، فتعلموهن وعلموهن نساءكم؛ فإنها صلاة وقربان ودعاء رواه الدارمي مرسلا .

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جبیر ابن نفیر سے کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایاتعالٰی نے سورہ بقرہ کو ان دو آیتوں پر ختم فرمایا ہے ۱؎جو مجھے اس کے عرشی خزانہ سے عطا ہوئیں لہذا انہیں سیکھو اور اپنی عورتوں کو سکھاؤ ۲؎کہ یہ نماز اور باعث قرب الٰہی و دعا ہیں ۳؎(دارمی)مرسلًا ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنیامن الرسولسے آخر سورۃ تک کی دو آیتیں عرشی خزانوں میں سے ہیں،خزانوں سے مراد رحمت کے معنوی خزانہ ہیں۔
۲
؎یعنی ان دونوں آیتوں کا ایک ایک کلمہ سیکھو اور سکھاؤ اسی لیےھنجمع مونث ارشاد ہوا ورنہ دو آیتوں کے لیے ضمیر تثنیہ آنی چاہئیے تھی رب تعالٰی فرماتاہے:"ھٰذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوۡا"اور فرماتاہے:"وَ اِنۡ طَآئِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ اقْتَتَلُوۡا" الخ۔عورتوں کا ذکر خصوصیت سے اس لیے فرمایا کہ بمقابلہ مردوں کے عورتیں گناہ زیادہ کرلیتی ہی اس لیے یہ دوزخی زیادہ ہیں یعنی یہ دو آیتیں اپنے سارے گھر والوں کو سکھاؤ کہ ان کے سکھانے سے چھوٹے بچے جلد سیکھ جائیں گے کہ بچوں کا پہلا مکتب ماں کی گود ہے۔
۳
؎صلوۃ سے مراد یا تو استغفار ہے جیسے"اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ"میں فرشتوں کی صلوٰۃ سے مراد ہے استغفار یا یہ مطلب ہے کہ نماز میں تلاوت کی جانے والی آیتیں ہیں۔مطلب یہ ہے کہ نماز یا خارج نماز ان آیات کے پڑھنے میں بہت فائدے ہیں ان میں دعاء بھی ہے قربت الٰہی بھی استغفار بھی اور ان سے نماز بھی ہوتی ہے کہ ان میںغفرانكبھی ہے اوروالیک المصیربھی یا حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے قرب کا ذریعہ ہے ایسی جامعیت دوسری آیات میں کم ہے معلوم ہوا کہ آیات کے فضائل کبھی ا ن کے مضامین کی اہمیت کی وجہ سے بھی ہوتے ہیں۔
۴
؎کیونکہ جیبر ابن نفیر تابعی ہیں انہوں نے فرمایا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے یوں ارشاد فرمایا کہ صحابی کا ذکر نہ آیا،حاکم نے حضرت ابوذر سے مرفوعا ً روایت کی تھوڑے فرق سے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2173