Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2132

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- كَانَ إِذَا أَوَى إِلٰى فِرَاشِهٖ كُلَّ لَيْلَةٍ جَمَعَ كَفَّيْهِ ثُمَّ نَفَثَ فِيْهِمَا، فَقَرَأَ فِيْهِمَا: قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ وَ قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ، ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهٖ يَبْدَأُ بِهِمَا عَلٰى رَأْسِهٖ وَوَجْهِهٖ ، وَمَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِهٖ ، يَفْعَلُ ذٰلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَسَنَذْكرُ حَدِيْثَ ابْنِ مَسْعُوْدٍ: لَمَّا أُسْرِيَ بِرَسُوْلِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فِي "بَابِ الْمِعْرَاج" إِن شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰى.

وعن عائشة: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان إذا أوى إلى فراشه كل ليلة جمع كفيه ثم نفث فيهما، فقرأ فيهما: قل هو الله أحد و قل أعوذ برب الفلق و قل أعوذ برب الناس ، ثم يمسح بهما ما استطاع من جسده يبدأ بهما على رأسه ووجهه ، وما أقبل من جسده ، يفعل ذلك ثلاث مرات". متفق عليه.
وسنذكر حديث ابن مسعود: لما أسري برسول الله -صلى الله عليه وسلم- في "باب المعراج" إن شاء الله تعالى.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات میں جب اپنے بستر پر تشریف لے جاتے ۱؎تو اپنے ہاتھ جمع کرکے ان میں پھونکتے ۲؎جن میں"قل ھو اﷲ احد"اور"قل اعوذ برب الفلق"اور"اعوذ برب الناس"پڑھتے ۳؎پھر جسم کے جس حصہ تک ہوسکتا وہ ہاتھ پھیرتے ۴؎اپنے سر مبارک اور چہرے پاک کے سامنے والے حصے سے شروع فرماتے یہ تین بار کرتے تھے ۵؎مسلم،بخاری اور حضرت ابن مسعود کی یہ حدیث کہ جب رسولصلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گئی الخان شاءاﷲباب المعراجمیں بیان کریں گے۶؎

شرح حدیث

۱∞؎ہر رات کے فرمانے سے معلوم ہوا کہ یہ عمل دن کے قیلولہ میں نہ کرتے تھے،صرف رات کو سوتے وقت کرتے تھے،بستر سے مراد خوابگاہ ہے لہذا اگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں جنگل میں بھی رات کو سوتے تو یہ عمل کرکے سوتے۔
۲
؎نفخاورنفثدونوں کے معنے ہیں پھونکنا مگرنفخمیں محض سانس نکالنا ہوتا ہے اورنفثمیں سانس کے ساتھ کچھ لعاب دہن بھی شامل ہوتاہے۔
۳
؎یہاںفقراءکیفایسی ہے جیسے رب تعالٰی کا فرمان:"فَاِذَا قَرَاۡتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ"یا جیسے"اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوۡا وُجُوۡھَکُمْ"یعنی جب بستر پر لیٹتے اور دم کرنا چاہتے تو یہ سورتیں پڑھتے۔ یہ مطلب نہیں کہ دم تو پہلے کرلیتے اور سورتیں بعد میں پڑھتے لہذا ہمارا ترجمہ درست ہےفکے خلاف نہیں بعض نسخوں میں ونفث واو سے ہے،تب تو بالکل واضح ہے۔
۴
؎تاکہ قرآن کی برکت کے ساتھ اپنے سانس اور ہاتھ شریف کی برکتیں بھی شامل ہوجائیں،اس سے بزرگوں کا دم درود یا مرض کی جگہ ہاتھ رکھ کر یا ہاتھ پھیر کر دم کرنا ثابت ہوا۔
۵
؎ہم کو بھی اس پر عمل کرنا چاہئیے اس سے آفات سے حفاظت رہتی ہے۔
۶
؎یعنی وہ حدیث مصابیح میں یہاں تھی مگر ہم اسےباب المعراجمیں بیان کریں گے کیونکہ وہ اس باب سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2132