Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2122

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "يَا أَبَا الْمُنْذِرِ! أَتَدْرِيْ أَيُّ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللّٰهِ تَعَالٰى مَعَكَ أَعْظَمُ؟ " قُلْتُ: اَللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ أَعْلَمُ، قَالَ: "يَا أَبَا الْمُنْذِرِ! أَتَدْرِيْ أَيُّ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللّٰهِ تَعَالٰى مَعَكَ أَعْظَمُ؟ " قُلْتُ: اللّٰهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ ، قَالَ: فَضَرَبَ فِيْ صَدْرِيْ وَقَالَ: "لِيَهْنِكَ الْعِلْمُ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي بن كعب قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يا أبا المنذر! أتدري أي آية من كتاب الله تعالى معك أعظم؟ " قلت: الله ورسوله أعلم، قال: "يا أبا المنذر! أتدري أي آية من كتاب الله تعالى معك أعظم؟ " قلت: الله لا إله إلا هو الحي القيوم ، قال: فضرب في صدري وقال: "ليهنك العلم يا أبا المنذر". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں فرمایا رسو لصلی اللہ علیہ وسلم نے اے ابو المنذر کیا جانتے ہو کہ تمہارے پاس کتابکی کون سی شاندار آیت ہے ۱؎میں نے عرض کیارسول ہی جانیں فرمایا اے ابو المنذر کیا جانتے ہو تمہارے پاس کتابکی کون سی شاندار آیت ہے ۲؎میں نے عرض کیا"اﷲ لا الہ الا ھو الحی القیوم" ۳؎تو حضور نے میرے سینہ پر ہاتھ مارا اور فرمایا تمہیں علم مبارک ہو ۴؎اے ابوالمنذر (مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت ابی ابن کعب اور آپ کے تین چچا زاد بھائی اس زمانہ میں پورے قر آن کریم کے حافظ تھے سوال یہ ہے کہ اے ابی ابن کعب بتاؤ جو قرآن کریم تم نے سارا حفظ کیا ہے اس میں بہت شاندار آیت کونسی ہے۔(مرقات)اس زمانہ میں قرآن کریم کی تلاوت اور اس کا حفظ بقدر نزول ہوتا تھا۔
۲
؎اعظم سے مراد اخروی ثواب اور دنیاوی فوائد میں زیادہ ہے،یہ زیادتی اضافی ہے،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ کسی حدیث میں کسی آیت کو اعظم فرمایا اور دوسری حدیث میں دوسری آیت کو۔
۳
؎پہلی بار نہ بتانے اور پھر بتادینے کی شارحین نے بہت وجوہ بیان کی ہیں فقیر کی نظر میں قوی وجہ یہ ہے کہ ان دو سوالوں کے درمیان کے وقفہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دل میں جواب بطور فیضان القاء فرمادیا پھر پوچھا تو آپ نے وہ ہی القاء کیا ہوا جواب عرض کردیا حضرات صوفیاء کبھی نظر سے کبھی سینہ پرہاتھ رکھ کر کبھی مرید کو سامنے بٹھا کر کبھی کوئی بات پوچھ کر فیض دیتے ہیں،ان طریقوں کی اصل یہ حدیث ہے(ازلمعات واشعہ)حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی ابن کعب کو نظر بھر کر دیکھا جس سے ان کے سینہ میں علوم کے دریا بہ گئے۔
۴
؎یہ فرمان ہمارے عرض کئے ہوئے مطلب کی تائید ہے یعنی اے ابی تمہیں یہ علم لدنی مبارک ہوکہ بغیر کتابیں پڑھے داتا کی دین اور راہبر کامل کی ا یک نگاہ کرم سے تمہیں سب کچھ مل گیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2122