Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2183

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَن عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: أَتٰى رَجُلٌ النَّبِيَّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ: أَقْرِئْنِيْ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! فَقَالَ: "اقْرَأْ ثَلَاثًا مِنْ ذَوَاتِ الر "،فَقَالَ: كَبُرَتْ سِنِّيْ، وَاشْتَدَّ قَلْبِيْ، وَغَلُظَ لِسَانِيْ، قَالَ: "فَاقْرَأْ ثَلَاثًا مِنْ ذَوَاتِ حم "، فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهٖ، قَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَقْرِئْنِيْ سُوْرَةً جَامِعَةً، فَأَقْرَأَهٗ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- إِذَا زُلْزِلَتِ حَتّٰى فَرَغَ مِنْهَا، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَالَّذِيْ بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَزِيْدُ عَلَيْهِ أَبَدًا، ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَفْلَحَ الرُّوَيْجِلُ" مَرَّتَيْنِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

وعن عبد الله بن عمرو قال: أتى رجل النبي -صلى الله عليه وسلم- فقال: أقرئني يا رسول الله! فقال: "اقرأ ثلاثا من ذوات الر "،فقال: كبرت سني، واشتد قلبي، وغلظ لساني، قال: "فاقرأ ثلاثا من ذوات حم "، فقال مثل مقالته، قال الرجل: يا رسول الله! أقرئني سورة جامعة، فأقرأه رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إذا زلزلت حتى فرغ منها، فقال الرجل: والذي بعثك بالحق لا أزيد عليه أبدا، ثم أدبر الرجل، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "أفلح الرويجل" مرتين. رواه أحمد وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدابن عمرو سے فرماتے ہیں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا یا رسولمجھے قرآن سکھائیے ۱؎فرمایاالروالی تین سورتیں پڑھا کرو۲؎عرض کیا میری عمر بہت ہوچکی دل سخت اور زبان موٹی ہوچکی ۳؎فرمایا توحٰمٓوالی تین سورتیں پڑھا کرو۴؎تو اس نے پھر وہ ہی عذر کیا پھر وہ بولا یا رسولمجھے کوئی جامع سورۃ سکھائیے ۵؎تو اسے رسولصلي الله عليه وسلم نے سورۂاذا زلزلتپڑھائی حتی کہ اس سے فارغ ہوگئے ۶؎وہ شخص بولا اس کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اس پرکبھی کچھ زیادتی نہ کروں گا ۷؎اس نے پیٹھ پھیری تو رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے دوبار فرمایا یہ شخص کامیاب بامراد ہوگیا ۸؎(احمد،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی تلاوت قرآن کی اجازت دیجئے یا قرآنی ورد وظیفے بتائیے جو میں پڑھا کروں،یہ مطلب نہیں کہ مجھے قرآنی الفاظ کے ہجے یا رواں کرنا سکھائیے جیسا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے جواب سے معلوم ہورہاہے۔
۲
؎یعنی جن سورتوں کے اول میں الف،لام،را ہے ان میں سے تین سورتیں روزانہ پڑھ لیا کرو،بہت فوائد دیکھو گے۔
۳
؎یعنی یہ سورتیں ہیں لمبی اور بڑھاپے کی وجہ سے میرا دل قابو میں ہے نہ زبان،زیادہ لمبے ورد نہیں پڑھ سکتا بہت زیادہ تلاوت نہیں کرسکتا۔
۴
؎یعنی اگرالروالی دراز سورتیں روزانہ نہیں پڑھ سکتے،تو حم والی سورتیں پڑھ لیا کرو کہ یہ ان سے چھوٹی ہیں۔
۵
؎یعنی ایسی سورۃ بتائیے،جو پڑھنے میں آسان ہوں،الفاظ میں مختصر ہو،فوائد میں جامع ہو کہ بڑی بڑی سورتوں کے فضائل وفوائد رکھتی ہو،جامع سے یہ ہی مراد ہے۔
۶
؎یعنی اس سے یہ سورت سنی اور سن کر اس کے ورد کی اجازت دے دی،حضرات صوفیاء دلائل الخیرات شریف وغیرہ وظیفے مریدوں کو سکھاتے ہیں،پھر ان سے سنتے ہیں،پھر ان کی اجازت دیتے ہیں جس سے ان کی تاثیر بہت زیادہ ہوجاتی ہے،اس سننے اور اجازت دینے کی اصل یہ حدیث بھی ہے کہ اس شخص نے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سےاذا زلزلتکے عمل کی اجازت لی، حضور علیہ ا لسلام نے اسے اجازت مرحمت فرمائی کلام کے اثر کے ساتھ زبان کی تاثیر بھی چاہئیے،کار توس کی طاقت کے ساتھ رائفل کی قوت بھی ضروری ہے۔
۷
؎یعنی صرف اسی سورت کا وظیفہ کیا کروں گا اگرچہ تلاوت سارے قرآن شریف کی کیا کروں گا یہ مطلب نہیں کہ سوائے اسی سورت کے اور کوئی آیت یا سورۃ کبھی نہ پڑھوں گا کہ یہ تو غلط ہے،نماز میں الحمد شریف پڑھنا واجب ہے اور اس کے بعد سورتیں بدل کر پڑھنا بھی ضروری ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ مرید شیخ کے بتائے ہوئے ورد وظیفے میں نہ تو زیادتی کمی کرے نہ تبدیلی کرے ورنہ اثر نہ ہوگا۔
۸
؎سورۃاذا زلزلتفضائل و فوائد کے لحاظ سے بھی جامع ہے اور احکام مسائل شریعت و طریقت میں جامع ہے اس کی ایک آیت میں دونوں جہاں جمع ہیں"فَمَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ وَمَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ"۔حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس آیت کوجامعہ فاذّہفرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم ہرشخص کے آئندہ کے عمل اور اس کے خاتمہ کو جانتے ہیں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے یہاں اس شخص کے متعلق دو خبریں دیں:ایک یہ کہ اسے اس عمل کے نبھانے کی توفیق ملے گی،دوسرے یہ کہ اس کا انجام بخیر ہوگا۔کیونکہ کامیابی انہیں چیزوں پر موقوف ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2183