Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2168

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ هٰذِهِ الْقُلُوْبَ تَصْدَأُ كَمَا يَصْدَأُ الْحَدِيْدُ إِذَا أَصَابَهُ الْمَاءُ"، قِيْلَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! وَمَا جِلَاؤُهَا؟ قَالَ: "كَثْرَةُ ذِكْرِ الْمَوْتِ،وَتِلَاوَةُ الْقُرْآنِ". رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الأَحَادِيْثَ الأَرْبَعَةَ فِيْ "شُعَبِ الإِيْمَانِ".

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن هذه القلوب تصدأ كما يصدأ الحديد إذا أصابه الماء"، قيل: يا رسول الله! وما جلاؤها؟ قال: "كثرة ذكر الموت،وتلاوة القرآن". روى البيهقي الأحاديث الأربعة في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ یہ دل ایسے زنگ آلود ہوتے رہتے ہیں جیسے لوہا پانی لگنے سے زنگ آلود ہوجاتا ہے ۱؎عرض کیا گیا یا رسول اللہ ان دلوں کی صیقل کیا ہے ۲؎فرمایا موت کی زیادہ یاد ۳؎اور قرآن کریم کی تلاوت ۴؎ان چاروں حدیثوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی گناہوں دنیاوی الجھنوں میں مشغولیت ذکر محبوب سے غفلت و غیرہ دل کے زنگ کا سبب ہے یہ زنگ کبھی معمولی ہوتی ہے جو معمولی کوشش سے جاتی رہتی ہے اور کبھی بہت سخت کہ بہت کوشش کے بعد دور ہوتی ہے اور کبھی ناقابل دفع جسے رین اور ختم کہا جاتا ہے۔رب تعالٰی فرماتاہے:"کَلَّا بَل رَانَ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ مَّا کَانُوۡا یَکْسِبُوۡنَ"۔خیال رہے کہ یہاں "ھذہ القلوب"سے مراد عام انسانوں کے دل ہیں۔انبیائے کرام اور خاص اولیاء اللہ کے دل اس سے مستثنٰی ہیں۔جو ہمیشہ حفاظت الٰہی میں رہتے ہیں ان کے لیے ذکر موت اور تلاوت قرآن زیادتی نورانیت کے سبب ہیں۔
۲
؎یعنی ہر چیز کی صفائی کے آلات الگ الگ ہیں اور ہر ایک کی پالش جدا گانہ ہے تو دلوں کی پالش و صفائی کس چیزسے ہوگی۔
۳
؎کیونکہ موت کو یاد کرنے میں دل دنیا سے سرد ہوجاتا ہے آخرت کی طرف راغب ہو کر گناہوں سے متنفر اور نیکیوں کی طرف مائل ہوجاتا ہے جوشخص روزانہ موت کو یاد کرلیا کرے اس کو درجۂ شہادت ملے گا اگرچہ طبی موت سے مرے۔(شامی)اسی لیے زیارت قبور سنت ہے تاکہ اس سے اپنی موت یاد آتی رہے، موت خاموش و اعظ ہے۔
۴
؎کیونکہ قرآن گویا اپنے روحانی دیس کا خط ہے جو ہم پردیسیوں کو وہاں کی یاد دلاتا ہے اس دیس کی یاد اس جسمانی عارضی دیس سے دل سرد کردیتی ہے یہ بولتا ہوا واعظ ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ یاد موت کی کثرت دل کا زنگ دور کرتی ہے اور تلاوت مطلقًا خواہ زیادہ ہو یا کم یہ اثر کرتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2168