Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2145

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ اللّٰهَ كَتَبَ كِتَابًا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ بِأَلْفَيْ عَامٍ، أَنْزَلَ مِنْهُ آيتَيْنِ خَتَمَ بِهِمَا سُوْرَةَ الْبقَرَةِ،وَلَا تُقْرَا ٰنِ فِيْ دَارٍ ثَلَاثَ لَيَالٍ فَيَقْرَبَهَا الشَّيْطَانُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ.

وعن النعمان بن بشير قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن الله كتب كتابا قبل أن يخلق السماوات والأرض بألفي عام، أنزل منه آيتين ختم بهما سورة البقرة،ولا تقرا ن في دار ثلاث ليال فيقربها الشيطان". رواه الترمذي والدارمي، وقال الترمذي: هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے فرماتے ہیں فرمایا ر سول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اللہ تعالٰی نے زمین و آسمان کی پیدائش سے دو ہزار برس پہلے ایک کتاب لکھی ۱؎جس میں سے دو آیتیں وہ اتاریں جن پر سورۂ بقرہ ختم فرمائی ۲؎یہ ناممکن ہے کہ کسی گھر میں یہ آیتیں برابر تین شب پڑھی جائیں پھر شیطان اس کے پاس بھی پھٹکے ۳؎ترمذی،دارمی اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎دو ہزار برس سے مراد اس قدر مدت ہے کہ اگر سورج ہوتا تو اسی مدت کے دو ہزار برس بن جاتے ورنہ اس وقت سورج نہ تھا نہ دن رات،پھر دن مہینے ہفتے اور سال کیسے بن سکتے ہیں،لکھنے سے مراد فرشتوں کو لکھنے کا حکم دینا ہے خاص خدا م کا کام گویا سلطان ہی کا کام ہے۔خیال رہے کہ مخلوق کی تقدیریں آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے لکھی گئیں،مگر یہ تحریر دو ہزار برس پہلے ہوئی لہذا یہ حدیث پچاس ہزار برس کی روایت کے خلاف نہیں کہ و ہاں لوح محفوظ میں تقدیروں کی تحریر مراد ہے،اور یہاں قرآن کریم کی تحریر مراد اور ہوسکتا ہے کہ یہاں دو ہزار برس سے تحریر مراد نہ ہو بلکہ مطلق زیادتی بیان کرنا مقصود ہو۔(مرقات)
۲
؎یہ دو آیتیں"اٰمَنَ الرَسُوۡلُ"سےآخر سورۂ بقر تک ہیں اگرچہ سارا قرآن شریف ہی لوح محفوظ میں تھا اور وہاں سے ہی نازل ہوا مگر ان آیتوں میں وہ خصوصیت ہے جس کا ذکر آگے ہورہا ہے اس لیے ان کا ذکر خصوصیت سے فرمایا۔
۳
؎جب ان آیتوں کی برکت سے وہ گھر وہ عمارت وہ جگہ شیطان سے محفوظ ہوجاتی ہے جہاں تین دن یہ آیات پڑھ لی جائے تو جس زبان میں یہ آیتیں رہیںان شاء اللهوہ بھی شیطان سے محفوظ رہیں گے۔ان جیسی تمام احادیث میں شیطان سے مراد ابلیس ہوتا ہے،ورنہ قرین شیطان اور نفس امارہ تو بہرحال انسان کے ساتھ رہتے ہیں ان موذیوں سے بچنے کی کوئی تدبیر نہیں جسے اللہ بچائے وہ ہی بچے۔
۴
؎اس حدیث کو نسائی،ابن حبان اور حاکم نے اپنی مستدرک میں بھی روایت کیا۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2145