Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2167

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "قِرَاءَةُ الرَّجُلِ الْقُرْآنَ فِيْ غَيْرِ الْمُصْحَفِ أَلْفُ دَرَجَةٍ،وَقِرَاءَتُهٗ فِي الْمُصْحَفِ تُضَعَّفُ عَلٰى ذٰلِك إِلٰى أَلْفَيْ دَرَجَةٍ".

وعن عثمان بن عبد الله بن أوس الثقفي عن جده قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "قراءة الرجل القرآن في غير المصحف ألف درجة،وقراءته في المصحف تضعف على ذلك إلى ألفي درجة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عثمان ابن عبدابن اوس ثقفی سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کسی شخص کا بغیر قرآن کریم دیکھے تلاوت کرنا ہزاردرجہ ہے۱؎اور قرآن میں دیکھ کر تلاوت کرنا اس پر دو ہزار درجہ افضل ہے۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حفظ تلاوت قرآن کا ثواب دیگر عبادت سے ہزار گنا زیادہ ہے،اس کی وجہ پہلے بیان ہوچکی۔
۲
؎یعنی قرآن کریم میں دیکھ کر تلاوت کرنے کا ثواب دوسری عبادات سے دو ہزار گناہ زیادہ یا حفظ تلاوت سے دو ہزار حصہ زیادہ ہے کیونکہ قرآن کریم دیکھنا بھی عبادت ہے اور اس کی تلاوت بھی عبادت تو دیکھ کر پڑھنے والا دوہری عبادت کرتا ہے اور حفظ تلاوت کرنے والا ایک عبادت کرتا ہے۔خیال رہے کہ چند چیزوں کا دیکھنا عبادت ہے قرآن کریم کعبہ معظمہ،عالم دین کا چہرہ،ماں باپ کو شفقت کی نظر سے دیکھنا اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا دیکھنا تو بڑ ی ہی عبادت ہے کہ اس سے مؤمن صحابی بن جاتاہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2167