Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2139

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ معَاذٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَعَمِلَ بِمَا فِيْهِ أُلْبِسَ وَالِدَاهُ تَاجًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ضَوْؤهٗ أَحْسَنُ مِنْ ضَوْءِ الشَّمْسِ فِيْ بُيُوْتِ الدُّنْيَا لَوْ كَانَتْ فِيْكُمْ، فَمَا ظَنُّكُمْ بِالَّذِيْ عَمِلَ بِهٰذَا ؟ ". رَوَاهُ أحمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

وعن معاذ الجهني قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "من قرأ القرآن وعمل بما فيه ألبس والداه تاجا يوم القيامة، ضوؤه أحسن من ضوء الشمس في بيوت الدنيا لو كانت فيكم، فما ظنكم بالذي عمل بهذا ؟ ". رواه أحمد وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاذ جہنی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے جو قرآن پڑھے اور اس کے احکام پر عمل کرے ۱؎تو قیامت کے دن اس کے ماں باپ کو ایسا تاج پہنایا جائے گا ۲؎جس کی روشنی سورج کی روشنی سے اچھی ہوگی جو اگر سورج تم میں ہوتا تودنیاوی گھروں میں ہوتی ۳؎تو اس کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے جو اس پر عامل ہو۴؎(احمد،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ یہاں قرآن پڑھنے سے مراد روزانہ اس کی تلاوت کرنا ہے اور ہوسکتا ہے کہ قرآن پڑھنے سے مراد علوم قرآن سیکھنا ہو یعنی عالم باعمل کا ثواب وہ ہے جو آگے مذکور ہے۔
۲
؎یعنی عالم باعمل کے مؤمن ماں باپ کا درجہ یہ ہوگا خواہ انہوں نے اسے اپنی کوشش سے پڑھایاہو یا نہیں کیونکہ حدیث مطلق ہے پڑھانے کی قید نہیں۔
۳
؎یعنی اگر سورج زمین پر ہوتا تو بتاؤ اس کی چمک دمک روشنی تمہارے گھروں میں کتنی ہوتی اس سے زیادہ اس تاج کے موتی چمکتے ہوں گے۔
۴
؎یعنی پھر عالم باعمل کے متعلق سوچو کہ اس کا درجہ قیامت میں کیا ہوگا،وہ تو ہمارے خیال سے وراء ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2139