- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- قرآن کے فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 2116
باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2116
قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 2109
- 2110
- 2111
- 2112
- 2113
- 2114
- 2115
- 2116
- 2117
- 2118
- 2119
- 2120
- 2121
- 2122
- 2123
- 2124
- 2125
- 2126
- 2127
- 2128
- 2129
- 2130
- 2131
- 2132
- 2133
- 2134
- 2135
- 2136
- 2137
- 2138
- 2139
- 2140
- 2141
- 2142
- 2143
- 2144
- 2145
- 2146
- 2147
- 2148
- 2149
- 2150
- 2151
- 2152
- 2153
- 2154
- 2155
- 2156
- 2157
- 2158
- 2159
- 2160
- 2161
- 2162
- 2163
- 2164
- 2165
- 2166
- 2167
- 2168
- 2169
- 2170
- 2171
- 2172
- 2173
- 2174
- 2175
- 2176
- 2177
- 2178
- 2179
- 2180
- 2181
- 2182
- 2183
- 2184
- 2185
- 2186
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ أُسَيْدَ بنَ حُضَيْرٍ قَالَ: بَيْنَمَا هُوَ يَقْرَأُ مِنَ اللَّيْلِ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، وَفَرَسُهٗ مَرْبُوطَةٌ عِنْدَهٗ، إِذْ جَالَتِ الْفَرَسُ، فَسَكَتَ فَسَكَنَتْ، فَقَرَأَ فَجَالَتِ الْفَرَسُ، فَسَكَتَ فَسَكَنَتْ، ثُمَّ قَرَأَ فَجَالَتِ الْفَرَسُ، فَانْصَرَفَ، وَكَانَ ابْنُهٗ يَحْيٰى قَرِيْبًا مِنْهَا، فَأَشْفَقَ أَنْ تُصِيْبَهٗ، وَلَمَّا أَخَّرَهٗ رَفَعَ رَأْسَهٗ إِلَى السَّمَاءِ فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ، فِيْهَا أَمْثَالُ الْمَصَابِيْحِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ حَدَّثَ النَّبِيَّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ: "اقْرَأْ يَاا بْنَ حُضَيْرٍ، اقْرَأْ يَاا بْنَ حُضيْرٍ". قَالَ: فَأَشْفَقْتُ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ أن تَطَأَ يَحْيٰي وَكَانَ مِنْهَا قَرِيْبًا، فَانْصَرَفْتُ إِلَيْهِ، وَرَفَعْتُ رَأْسِيْ إِلَى السَّمَاءِ، فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ فِيْهَا أَمْثَالُ الْمَصَابِيْحِ، فَخَرَجْتُ حَتّٰى لَا أَرَاهَا، قَالَ: "وَتَدْرِيْ مَا ذَاكَ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: "تِلْكَ الْمَلَائِكَةُ دَنَتْ لِصَوْتِكَ، وَلَوْ قَرَأْتَ لأَصْبَحَتَ يَنْظُرُ النَّاسُ إِلَيْهَا لَا تَتَوَارٰى مِنْهُمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَالْلَفْظُ لِلْبُخَارِيِّ، وَفِيْ مُسْلِمٌ: "عَرَجَتْ فِي الْجَوِّ" بَدَلَ: "فَخَرَجْتُ" عَلٰى صِيْغَةِ الْمُتَكَلِّمِ.
وعن أبي سعيد الخدري أن أسيد بن حضير قال: بينما هو يقرأ من الليل سورة البقرة، وفرسه مربوطة عنده، إذ جالت الفرس، فسكت فسكنت، فقرأ فجالت الفرس، فسكت فسكنت، ثم قرأ فجالت الفرس، فانصرف، وكان ابنه يحيى قريبا منها، فأشفق أن تصيبه، ولما أخره رفع رأسه إلى السماء فإذا مثل الظلة، فيها أمثال المصابيح، فلما أصبح حدث النبي -صلى الله عليه وسلم- فقال: "اقرأ ياا بن حضير، اقرأ ياا بن حضير". قال: فأشفقت يا رسول الله أن تطأ يحيي وكان منها قريبا، فانصرفت إليه، ورفعت رأسي إلى السماء، فإذا مثل الظلة فيها أمثال المصابيح، فخرجت حتى لا أراها، قال: "وتدري ما ذاك؟ " قال: لا، قال: "تلك الملائكة دنت لصوتك، ولو قرأت لأصبحت ينظر الناس إليها لا تتوارى منهم". متفق عليه.
واللفظ للبخاري، وفي مسلم: "عرجت في الجو" بدل: "فخرجت" على صيغة المتكلم.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے کہ حضرت اسید ابن حضیر ۱؎فرماتے ہیں اس اثناء میں کہ وہ رات میں سورہ بقر پڑھ رہے تھے ان کا گھوڑا ان کے پاس بندھا تھا کہ گھوڑا کودنے لگا ۲؎وہ خاموش ہوگئے تو گھوڑا بھی ٹھہر گیا انہوں نے پھر پڑ ھا تو گھوڑا پھر کودا وہ پھر چپ ہوگئے تو گھوڑا پھر ٹھہر گیا انہوں نے پھر پڑھا تو گھوڑا پھر کودا آپ نے قرأت بند کردی ۳؎ان کا بیٹا یحیی گھوڑے سے قریب تھا آپ ڈرے کہ گھوڑا اس تک پہنچ جائے جب انہوں نے یحیی کو ہٹایا تو اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا دیکھا کہ شامیانہ کیطرح ہے جس میں چراغ جیسے ہیں ۴؎جب صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واقعہ عرض کیا ۵؎فرمایا اے ابن حضیر پڑھا کرو اے ابن حضیر پڑھا کرو ۶؎عرض کیا یارسول اللہ میں ڈرا کہ یحیی کو گھوڑا روند دے یحیی اس سے قریب ہی تھے تو میں ان کے پاس چلا گیا ۷؎اور میں نے آسمان کیطرف سر اٹھایا تو شامیانہ سا تھا جس میں چراغ جیسی چیزیں تھیں۸؎میں باہر آگیا حالانکہ وہ نظر نہ آئیں فرمایا کیا جانتے ہو یہ کیا تھا عرض کیا نہیں فرمایا یہ فرشتے تھے جو تمہاری آواز پر جھک پڑے تھے ۹؎اگر تم پڑھتے رہتےتو فرشتے اس طرح سویرا کر دیتے لوگ انہیں دیکھتے فرشتے ان سے نہ چھپتے ہیں ۱۰؎مسلم،بخاری،لفظ بخاری کے ہیں مسلم میں بجائے متکلمفخرجتکے یوں ہے کہ وہ شامیانہ اوپر چڑھ گیا۱۱؎
شرح حدیث
۱∞؎آپ نقباء انصار میں سے ہیں جلیل القدر صحابی ہیں ۲۰ یا ۲۱ ھ میں وفات پائی حضرت عمر نے آپ کا جنازہ اٹھایااور نماز پڑھائی۔
۲؎غالبًا یہ تہجد کا وقت تھا،آپ نماز تہجد سے فارغ ہو کر تلاوت قرآن کررہے تھے آخر شب میں نماز کے سواء تلاوت بھی ثواب ہے عمل صحابہ ہے۔
۳؎بچے کی جان کے خوف سے اور اس واقعہ میں غور و تامل کرنے کے لیے کیونکہ تلاوت میں سکون قلبی نہ رہا تھا دل اور طرف متوجہ ہوگیا تھا سکون قلب حاصل کرنے کے لیے یہ تلاوت بند فرمائی،اگر نمازی کو عین نماز کی حالت میں سانپ بچھو نظر آئے تو انہیں مارسکتا ہے تاکہ سکون دل میسر ہوا لہذا اس واقعہ پر یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ آپ نے دنیاوی وجہ سے دینی کام کیوں بند کردیایہ بندکرنا نہیں بلکہ اس کو کامل بنانے کی تدبیر ہے۔
۴؎غالب یہ ہے کہ یہ شامیانہ روزانہ ہی ان کی تلاوت پر لگ جاتا تھا مگر آج ان کی نگاہ سے حجاب اٹھا دیئے گئے ہیں اس لیے آپ کی نگاہوں نے اسے دیکھ بھی لیا،بلکہ آپ کی فیض صحبت سے آپ کے گھوڑے نے بھی اسے دیکھ لیا۔
۵؎اس سے معلوم ہوا کہ مرید اپنے شیخ کی خدمت میں قلبی واردات اور خفیہ اثرات اعمال کی مخفی تاثیریں عرض کرسکتا ہے اس میں ریاءنہیں،بلکہ کبھی اس سے اپنی خامی دور ہوتی ہے اور کبھی مدارج میں ترقی ہوتی ہے مریض اپنا ہر حال طبیب سے عرض کرتا ہے حصول صحت کے لیے غرضکہ ان امور کا اظہار عوام پر نہ کرے،خَواص پر خصوصًا اپنے شیخ پر کرے۔
۶؎یعنی آئندہ بھی تلاوت قرآن کیا کرو ان جیسے واقعات دیکھ کر گھبرانا نہیں یہ ڈرنے کی چیز نہیں ہے یہ ہی شرح زیادہ ظاہر ہے بعض شارحین نے فرمایا کہ یہ امر بمعنی ماضی ہے یعنی تم نے اور زیادہ تلاوت کی ہوتی بند کیوں کردی اور دوسری شرح کی بنا پر اگلا جواب بالکل ظاہرہے جو حضرت اسید نے عرض کیا۔
۷؎یعنی دل تو میرا بھی چاہتا تھا کہ تلاوت خوب کروں کسی سستی وغیرہ کی وجہ سے میں نے تلاوت بند نہ کی،بلکہ واقعہ یہ پیش آیا جس کی وجہ سے مجھے تلاوت بند کرنی پڑی۔
۸؎اس عجوبہ کو پہلے گھوڑے نے دیکھا جس سے وہ بدکا،پھر میں نے اسے دیکھا اس کا بدکنا میرے دیکھنے کا باعث بنا۔
۹؎حضرت اسید کا ان فرشتوں کو دیکھ لینا اس وجہ سے ہوا کہ آج رب تعالٰی نے ان کی آنکھ سے غیبی حجابات اٹھا دیئے تھے جیسے ایک بار حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے تیز بارش دیکھی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کو دفن کرنے قبرستان تشریف لے گئے تھے واپسی پرآپ نے عرض کیا کہ حضور اس بارش میں آپ کہاں تھے بھیگے کیوں نہیں،فرمایا تمہارے سر پرکیا کپڑا ہے عرض کیا آپ کا تہبند فرمایا اس تہبند کی برکت سے تم نے یہ غیبی نورانی بارش دیکھ لی،ورنہ یہ بار ش کسی کو نظر نہیں آتی،مثنوی شریف میں ا س واقعہ کا تفصیلی ذکر فرمایا ہے،جس کے آخری اشعار یہ ہیں۔
گفت چہ بر سر فگندی از ازار گفت کردم آں ردائے تو خمار
گفت بہرآں نمود اے پاک حبیب چشم پاکت را خدا باران غیب
نیست ایں با راں ازیں ابر شما نیست باراں دیگر و دیگر سما
بعض بزرگ مرید کے سر پر ہاتھ رکھ دیتے ہیں تو اس کی آنکھ سے غیبی حجاب اٹھ جاتے ہیں اور عالم غیب کا مشاہدہ کرلیتا ہے مولانا فرماتے ہیں شعر۔
سرمہ کندرچشم خاکِ اولیاء
تابہ بینی زابتداتا انتہاء
۱۰؎یہاں مرقات نے فرمایا کہ فرشتے پرے باندھ کر ان کی تلاوت سن رہے تھے ان کے سامنے شامیانہ کیطرح حجاب بن گئے۔ان کے چہرے چراغوں کی طرح چمک رہے تھے نورانی اجسام کا ازدہام آڑ بن سکتا ہے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ایسا ہی ہے جیسے فرمایا آج ہم نے شیطان پکڑ لیا تھا چاہا کہ اسے مسجد کے ستون سے باندھ دیں،اگر باندھ دیتے تو مدینہ کے بچے اس سے کھیلتے۔
۱۱؎کیونکہ وہ آسمان کے رہنے والے فرشتے تھے تلاوت سننے اور قاری سے قرب حاصل کرنےیہاں آئے تھے،تلاوت بند ہوجانے پر اپنے مقام پر چلے گئے، زمینی فرشتے نہ تھے کہ نیچے آتے اگرچہ فرشتے آسمان پر رہتے ہوئے زمین والوں کی آواز سن لیتے ہیں مگر قربت حاصل کر نے کے لیے ایسی مجلس خیر میں آتے ہیں نعت خواں ایک شعر پڑھا کرتے ہیں۔شعر
فرشتے محفل میلاد میں رحمت کے آتے ہیں
رسول اللہ خود اس بزم میں تشریف لاتے ہیں
اس شعر کا ماخذ یہ حدیث ہے مجلس ذکر میں اب بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا تشریف لانا بہت سی روایات سے ثابت ہے دیکھو ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2116