Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2161

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّهٗ قَالَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ عَلِّمْنِيْ شَيْئًا أَقُوْلُهٗ إِذَا أَوَيْتُ إِلٰى فِراشِيْ، فَقَالَ: "اقْرأْ قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُوْنَ ؛ فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ.

وعن فروة بن نوفل عن أبيه أنه قال: يا رسول الله علمني شيئا أقوله إذا أويت إلى فراشي، فقال: "اقرأ قل ياأيها الكافرون ؛ فإنها براءة من الشرك". رواه الترمذي وأبو داود والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت فروہ بن نوفل سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎کہ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ مجھے ایسی چیز سکھائیے جو میں بستر پر دراز ہوتے وقت پڑھ لیا کروں تو فرمایا"قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ" پڑھ لیا کرو ۲؎کہ یہ شرک سے بیزاری ہے ۳؎(ترمذی،ابوداؤد،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎فروہ کی صحابیت میں اختلاف ہے صحیح یہ ہے کہ آپ صحابی نہیں بلکہ تابعی ہیں،مگر آپ کے والد نوفل صحابی ہیں۔(اشعہ)
۲
؎بعض ر وایات میں یہ بھی ہے کہ"قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ"پڑھتے ہی سو جاؤ یعنی پھر کوئی دنیاوی بات نہ کرو اور اگر کرنا پڑ جائے تو دوبارہ پڑھ لو۔
۳
؎پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ اس کا عاملان شاء اللهایمان پر ہی مرے گا علماء نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2161