Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2124

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بَيْنَمَا جِبْرِيْلُ عليه السلام قَاعِدٌ عِنْدَ النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- سَمِعَ نَقِيْضًا مِنْ فَوْقِهٖ، فَرَفَعَ رَأْسَهٗ فَقَالَ: "هٰذَا بَابٌ مِنَ السَّمَاءِ فُتِحَ الْيَوْمَ، لَمْ يُفْتَحْ قَطُّ إِلَّا الْيَوْمَ، فَنَزَلَ مِنْهُ مَلكٌ، فَقَالَ: هٰذَا مَلَكٌ نَزَلَ إِلَى الأَرْضِ لَمْ يَنْزِلْ قَطُّ إِلَّا الْيَوْمَ، فَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَبْشِرْ بِنُوْرينِ أُوْتيتَهُمَا لَمْ يُؤْتَهُمَا نَبِيٌّ قَبْلَكَ: فَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَخَوَاتِيْم سُوْرَةِ الْبَقَرَةِ، لَنْ تَقْرَأَ بِحَرْفٍ مِنْهُمَا إِلَّا أُعْطِيْتَهٗ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن ابن عباس قال: بينما جبريل عليه السلام قاعد عند النبي -صلى الله عليه وسلم- سمع نقيضا من فوقه، فرفع رأسه فقال: "هذا باب من السماء فتح اليوم، لم يفتح قط إلا اليوم، فنزل منه ملك، فقال: هذا ملك نزل إلى الأرض لم ينزل قط إلا اليوم، فسلم، فقال: أبشر بنورين أوتيتهما لم يؤتهما نبي قبلك: فاتحة الكتاب، وخواتيم سورة البقرة، لن تقرأ بحرف منهما إلا أعطيته". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں جب حضرت جبریل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے تو آپ نے اوپر سے آواز سنی ۱؎تو آپ نے سر مبارک اٹھایا حضرت جبریل نے عرض کیا یہ آسمان کا وہ دروازہ کھولا گیا ہے جو آج کے سوا کبھی نہ کھولا گیا ۲؎اس سے ایک فرشتہ اترا جبریل بولے یہ وہ فرشتہ زمین پر اترا ہے جو آج کے سوا کبھی نہ اترا ۳؎اس نے سلام کیا پھر بولا آپ خوش و خرم ہوں ان دو نوروں سے جو آپ کو دیئے گئے ۴؎آپ سے پہلے کسی کو نہ دیئے گئے ۵؎سورۂ فاتحہ اور سورۂ بقر کی آخری آیتیں ۶؎ان دونوں کا ایک حرف بھی آپ نہ پڑھیں گے مگر آپ کو اس کا اجر ملے گا۷؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎سمعکا فاعل حضرت جبریل علیہ السلام ہیں یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض شارحین نے فرمایا کہ حضرت جبریل علیہ السلام ہیں کیونکہ اگلی ضمیریں بھی انہیں کی طرف راجع ہیں نقیض نقض سے بنا بمعنی ٹوٹنا چونکہ لکڑی وغیرہ کے ٹوٹنے کے وقت سخت آواز پیدا ہوتی ہے،اس لیے اب ہر سخت آواز کو نقیض کہہ دیتے ہیں۔
۲
؎خیال رہے کہ آسمان کے بے شمار دروازے ہیں،جن سے مختلف چیزیں آتی جاتی ہیں،بعض دروازوں سے رزق آتے ہیں، بعض سے عذاب بعض سے دعائیں و توبہ جاتی ہیں، بعض سے خاص فرشتے اترتے ہیں،ایک دروازہ وہ بھی ہے جو صرف معراج کی رات حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھولا گیا،آج کا یہ دروازہ اس فرشتے کے لیے کھولا گیا تھا اس سے پہلے نہ یہ فرشتہ کبھی زمین پر آیا تھا اور نہ یہ دروازہ کبھی کھلا تھا۔
۳
؎یعنی نہ کسی کام کے لیے یہ زمین پر آیا نہ کسی پیغمبر کو کوئی پیغام سنانے کے لیے یہ فرشتہ صرف آج ہی آیااور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی خدمت میں آیا ہے اس فرشتہ کا نزول حضوانور صلی اللہ علیہ وسلم کی کرامت و عزت کے اظہار کے لیے ہے ورنہ یہ پیغام تو حضرت جبریل بھی عرض کرسکتے تھے۔
۴
؎چونکہ یہ دونوں سورتیں دنیا میں سیدھے راستہ کی ہادی ہیں اورپلصراط پر روشنی جس کے ذریعہ ان کی تلاوت کرنے والا آسانی سے اسے طے کرلے گا۔اس لیے انہیں نور فرمایا۔ خیال رہے کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم خود نور ہیں پھر آپ پر یہ نور اترے توبفضلہٖ تعالٰی نورٌ علی نورہوئے۔
۵
؎یعنی آپ سے پہلے نبیوں میں سے کسی کو ایسی شاندار آیات و سورتیں نہ ملیں تو ریت انجیل وغیرہ میں ایسی شان کی آیات نہیں،یوں تو سارا قرآن شریف ہی ان کتب سے افضل ہے مگر یہ آیات بہت ہی افضل۔
۶
؎یعنی سورۃ بقر کا آخری رکوع"لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِسےعَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیۡنَ"تک۔
۷
؎یعنی ان آیات کے ہر حرف کی تلاوت پر آپ کو اور آپ کے صدقہ سے آپ کی امت کو خصوصی ثواب ملے گا علاوہ تلاوت کے ثواب کے کہ وہ ثواب تو قرآن شریف کے تمام حروف پر ہے۔(اشعہ)یا حرف سے مراد آیت ہے یعنی ان میں جو آیات دعا ہیں، ان میں سے ہر آیت قبول ہوگی اور اس آیت کی دعاان شاءاللهمنظور ہوگی۔ مرقات ان دونوں جگہ میں بہت شاندار دعائیں ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2124