Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2153

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ سُوْرَةً فِي الْقُرْآنِ ثَلَاثُوْنَ آيَةً شَفَعَتْ لِرَجُلٍ حَتّٰى غُفِرَ لَهٗ، وَهيَ: تَبَارَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن سورة في القرآن ثلاثون آية شفعت لرجل حتى غفر له، وهي: تبارك الذي بيده الملك ". رواه أحمد والترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قرآن کی ایک تیس آیتوں والی سورۃ نے ۱؎ایک شخص کی یہاں تک شفاعت کی کہ اس کی بخشش ہوگئی وہ سورہتبارك الذی بیدہ الملكہے ۲؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد نسائی، ابن ماجہ)۳؎

شرح حدیث

۱∞؎اس سے معلوم ہوا کہبسم اللهشریف سورۃ کا جزءنہیں ورنہ سورۂ ملک کی آیتیں۳۱ ہوجاتیں،کیونکہ سورۂ ملک کیبسم اللهکے علاوہ تیس آیتیں ہیں۔
۲
؎یعنی ایک شخص سورۂ ملک کا ورد رکھتاتھا اس سے بہت محبت کرتا تھا اس کے مرنے کے بعد اس سورۃ نے اس کی سفارش کی تو اس کی شفاعت کی برکت سے وہ شخص عذاب قبر سے محفوظ رہا لہذا یہاںشفعتبمعنی ماضی ہی ہے۔معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو اس عالم کی ہربات ہر واقعہ کی تفصیلی خبر ملتی رہتی ہے یا خود ملاحظہ فرماتے رہتے ہیں۔لمعات نے فرمایا کہ شفعت بمعنی مستقبل بھی ہوسکتا ہے یعنی سورۂ ملک اپنے عاملوں کی شفاعت کرے گی اور اس کی شفاعت کی برکت سے عامل کی بخشش ہوگی۔اس صورت میں یہ فرمان ترغیب کے لیے ہے تاکہ لوگ اس کی تلاوت کیا کریں اس کی شفاعت کی امید ر کھیں۔
۳
؎اسے ابن حبان اور حاکم نے بھی روایت کیا حاکم کی ر وایت میں یوں ہے کہ فر مایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ بہتر ہوتا کہ یہ سورۃ ہر مسلمان کے دل میں ہوتی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2153