- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- قرآن کے فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 2138
باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2138
قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 2109
- 2110
- 2111
- 2112
- 2113
- 2114
- 2115
- 2116
- 2117
- 2118
- 2119
- 2120
- 2121
- 2122
- 2123
- 2124
- 2125
- 2126
- 2127
- 2128
- 2129
- 2130
- 2131
- 2132
- 2133
- 2134
- 2135
- 2136
- 2137
- 2138
- 2139
- 2140
- 2141
- 2142
- 2143
- 2144
- 2145
- 2146
- 2147
- 2148
- 2149
- 2150
- 2151
- 2152
- 2153
- 2154
- 2155
- 2156
- 2157
- 2158
- 2159
- 2160
- 2161
- 2162
- 2163
- 2164
- 2165
- 2166
- 2167
- 2168
- 2169
- 2170
- 2171
- 2172
- 2173
- 2174
- 2175
- 2176
- 2177
- 2178
- 2179
- 2180
- 2181
- 2182
- 2183
- 2184
- 2185
- 2186
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنِ الْحَارِثِ قَالَ: مَرَرْتُ فِي الْمَسْجِدِ، فَإِذَا النَّاسُ يَخُوْضُوْنَ فِي الأَحَادِيْثِ، فَدَخَلْتُ عَلٰى عَلِيٍّ رضي الله عنه فَأَخْبَرْتُهٗ، فَقَالَ: أَوَقَدْ فَعَلُوْهَا؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا إِنِّيْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَقُوْل: "أَلا إِنَّهَا سَتَكُوْنُ فِتْنَةٌ"، قُلْتُ: مَا الْمَخْرَجُ مِنْهَا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ ؟ قَالَ: "كِتَابُ اللّٰهِ، فِيْهِ نبَأٌ مَا قَبْلَكُمْ، وَخَبَرُ مَا بَعْدَكُمْ، وَحُكْمُ مَا بَيْنَكُم، هُوَ الْفَصْلُ لَيْسَ بِالْهَزْلِ، مَنْ تَرَكهٗ مِنْ جَبَّارٍ قَصَمَهُ اللّٰهُ، وَمَنِ ابْتَغَى الْهُدٰى فِيْ غَيْرِهٖ أَضَلَّهُ اللّٰهُ، وَهُوَ حَبْلُ اللّٰهِ الْمَتِيْنُ، وَهُوَ الذِّكْرُ الْحَكِيْمُ، وَهُوَ الصِّرَاطُ الْمُسْتَقِيْمُ، هُوَ الَّذِيْ لَا تَزِيْغُ بِهِ الأَهْوَاءُ، وَلَا تَلْتَبِسُ بِهِ الأَلْسِنَةُ، وَلَا يَشْبَعُ مِنْهُ الْعُلَمَاءُ، وَلَا يَخْلُقُ عَنْ كَثْرَةِ الرَّدِّ، وَلَا يَنْقَضِيْ عَجَائِبُهُ، هُوَ الَّذِيْ لَمْ تَنْتَهِ الْجِنُّ إِذْ سَمِعَتْهُ حَتّٰى قَالُوْا: إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِيْ إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهٖ ، مَنْ قَالَ بِهٖ صَدَقَ، وَمَنْ عَمِلَ بِهٖ أُجِرَ، وَمَنْ حَكَمَ بِهٖ عَدَلَ، وَمَنْ دَعَا إِلَيْهِ هُدِيَ إِلٰى صِرَاطٍ مُسْتَقِيْمٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ إِسْنَادُهُ مَجْهُوْلٌ، وَفِي الْحَارِثِ مَقَالٌ.
وعن الحارث قال: مررت في المسجد، فإذا الناس يخوضون في الأحاديث، فدخلت على علي رضي الله عنه فأخبرته، فقال: أوقد فعلوها؟ قلت: نعم، قال: أما إني سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "ألا إنها ستكون فتنة"، قلت: ما المخرج منها يا رسول الله ؟ قال: "كتاب الله، فيه نبأ ما قبلكم، وخبر ما بعدكم، وحكم ما بينكم، هو الفصل ليس بالهزل، من تركه من جبار قصمه الله، ومن ابتغى الهدى في غيره أضله الله، وهو حبل الله المتين، وهو الذكر الحكيم، وهو الصراط المستقيم، هو الذي لا تزيغ به الأهواء، ولا تلتبس به الألسنة، ولا يشبع منه العلماء، ولا يخلق عن كثرة الرد، ولا ينقضي عجائبه، هو الذي لم تنته الجن إذ سمعته حتى قالوا: إنا سمعنا قرآنا عجبا يهدي إلى الرشد فآمنا به ، من قال به صدق، ومن عمل به أجر، ومن حكم به عدل، ومن دعا إليه هدي إلى صراط مستقيم". رواه الترمذي والدارمي، وقال الترمذي: هذا حديث إسناده مجهول، وفي الحارث مقال.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت حارث سے فرماتے ہیں میں مسجد میں گزرا تو لوگ بات چیت میں مشغول تھے ۱؎میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ۲؎میں نے آپ کو اس کی خبر دی تو فرمایا کیا لوگ یہ حرکت کرنے لگے میں بولا ہاں فرمایا آگاہ رہو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ عنقریب فتنے ہوں گے ۳؎میں نے عرض کیا یارسول اللہ ان سے رہائی کی سبیل کیا ہے ۴؎فرمایا اللہ تعالٰی کی کتاب ۵؎جس میں تمہارے اگلوں کی خبریں اور پچھلوں کی خبریں اور تمہارے آپس کے فیصلے ہیں قرآن فیصلہ کن ہے ۶؎وہ غیر درست نہیں ہے جو ظالم اسے چھوڑ دے گااللہ اس کے ٹکڑے اڑا دے گا۷؎اور جو اس کے غیر میں ہدایت ڈھونڈے گا اللہ اسے گمراہ کر دے گا ۸؎وہ اللہ کی مضبوط رسی ہے اور وہ حکمت والا ذکر ہے وہ سیدھا راستہ ہے ۹؎قرآن وہ ہے جس کی برکت سے خیالات بگڑتے نہیں ۱۰؎اور جس سے دوسری زبانیں مشتبہ نہیں ہوتیں ۱۱؎جس سے علماء سیر نہیں ہوتے ۱۲؎جو زیادہ دہرانے سے پرانا نہیں پڑتا ۱۳؎جس کے عجائبات ختم نہیں ہوتے ۱۴؎قرآن ہی وہ ہے کہ جب اسے جنات نے سنا تو یہ کہے بغیر نہ رہ سکے کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو صلاحیت کی رہبر ی کرتا ہے تو ہم اس پر ایمان لے آئے ۱۵؎جو قرآن کا قائل ہو وہ سچا ہے جس نے اس پر عمل کیا ثواب پائے گا اور جو اس پر فیصلہ کرے گا منصف ہوگا اور جو اس کی طرف بلائے گا وہ سیدھی راہ کی طرف بلائے گا۱۶؎ترمذی،دارمی اور ترمذی نے فرمایا اس حدیث کی اسناد مجہول ہے اور حارث میں کچھ گفتگو ہوئی ہے ۱۷؎
شرح حدیث
۱∞؎احادیث سے مراد دنیاوی باتیں ہیں جو مسجد میں حرام ہیں اگرچہ جائز باتیں ہی ہوں،وہاں غیبت و جھوٹ وغیرہ حرام گفتگو تو اور سخت حرام ہے،احادیث سے مراد احادیث نبویہ نہیں جیساکہ بعض جاہلوں نے سمجھا۔مسجد میں حدیث شریف و فقہ وغیرہ دینی علوم کا درس بہترین عبادت ہے،اصحاب صفہ مسجد نبوی میں رہتے تھے اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے سارے دینی علوم سیکھتے تھے،یہ حارث تابعی ہیں،حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خدام خاص میں سے ہیں۔
۲؎اگرچہ اس وقت اور صحابہ بھی موجود تھے،مگر آپ خصوصیت سے حضرت علی کے پاس گئے کہ حضرت علی دروازۂ شہر نبوت ہیں "انا مدینۃ العلم وعلیٌّ بابہا"یہ حدیث اگرچہ اسناد مقررہ سے ضعیف ہے مگر متن حدیث صحیح ہے۔مرقات
۳؎ظاہر یہ ہے کہ یہاں فتنوں سے مراد وہ لڑائیاں اور جھگڑے ہیں جو صحابہ میں رونما ہوئے اور مسجدوں میں دنیاوی باتیں کرنا ان فتنوں کے ظہور کی علامت ہے یعنی اب وہ فتنے قریب آگئے کیونکہ مسجد میں دنیاوی باتیں ہونے لگیں،بعض نے اس سے مراد آگ کا یا دجال کا نکلنا مراد لیا مگر پہلے معنے زیادہ موزوں ہیں۔ خیال رہے کہ فتنہ عام مصیبت یا آزمائش کو کہتے ہیں۔
۴؎یعنی ایسا کون سا کام کیا جائے جس سے ان فتنوں سے مسلمان بچا رہے۔
۵؎قرآن کریم پر عمل یا اس کی تلاوت میں مشغولیت،معلوم ہوا کہ بعض نیکیوں کی برکت سے انسان دنیاوی آفات سے محفوظ رہتا ہے،درود شریف کی کثرت موت و زندگی کے فتنوں سے محفوظ رکھتی ہے بفضلہ تعالٰی۔۶؎یعنی قرآن شریف ایسی جامع کتاب ہے کہ اس میں گزشتہ امتوں کے واقعات آئندہ تا قیامت بلکہ جنت و دوزخ کے حالات بھی ہیں اور عبادات و معاملات و سیاسیات بھی ہیں۔
۷؎یہ جملہ یا خبر ہے یا بددعا یعنی جو شخص قرآن کے خلاف چلے خدا اس کے ٹکڑے اڑا دے گا یا جو اس کے علاوہ دوسری راہ اختیار کرے گا خدا تعالٰی اسے برباد کردے گا یعنی وہ کافر ہوجائے گا۔ خیال رہے کہ قرآن شریف کو ناحق جان کر اسے چھوڑ دینا کفر ہےاور اس کو حق جان کر عمل نہ کرنا فسق اور مجبورًا اس پر عمل نہ کرسکنامعذوری ہے جس پر پکڑ نہیں یہاں پہلی صورت مراد ہے لہذا حدیث بالکل واضح ہے۔
۸؎غیر قرآن سے مراد علوم عقلیہ یا کفار کی پیر وی ہے حدیث و فقہ غیر قرآن نہیں کہ یہ دونوں قرآن کریم کی شرحیں ہیں جیسے صرف و نحو قرآن پاک کے لیے ممدو معاون ہیں لہذا اس حدیث سے چکڑالوی دلیل نہیں پکڑسکتے۔
۹؎یہ تمام چیزیں قرآن کریم کے اوصاف بھی ہیں اور اس کے نام بھی قرآن پاک میں خود یہ نام موجود ہیں رسی کے ذریعہ بکھروں کو جمع کیا جاتا ہے رسی کے ذریعے کنوؤں سے گروی کو اوپر نکالا جاتا ہے قرآن کریم میں یہ ساری صفات موجود ہیں رب تعالٰی نے فرمایا:"وَاعْتَصِمُوۡا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیۡعًا"۔وہاںحبل اللهسے مراديا قرآن پاک ہے یا حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم یا دونوں۔ ذکر کے معنے عزت،شہرت،نصیحت تذکرہ ہیں قرآن کریم میں یہ ساری صفات موجود ہیں کہ اسی قرآن کی وجہ سے اہلِ عرب کی دنیا میں شہرت و عزت ہوگئی اس میں ہر قسم کی نصیحتیں اور ہر قسم کے تذکرے ہیں یہ خدا تعالٰی تک پہنچانے والا سیدھا راستہ ہے جو اسے چھوڑ دے وہ رب تعالٰی تک نہیں پہنچ سکتا۔
۱۰؎یعنی جو قرآن کریم سے صحیح طور پر استدلال کرے گا وہ اپنے خیالات کو بگڑنے سے محفوظ رکھے گا،اگر کوئی اس سے غلط استدلال ہی کرے اور گمراہ ہوجائے تو قرآن کریم کا قصور نہیں بلکہ اس کے استدلال کا قصور ہے قرآن کریم کو حدیث و فقہ کی روشنی میں سمجھو لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ "یُضِلُّ بِہٖ کَثِیۡرًا وَّیَہۡدِیۡ بِہٖ کَثِیۡرًا"۔نیز اس حدیث سے موجود زمانہ کے چکڑالوی دلیل نہیں پکڑ سکتے کہ وہ قرآن کریم کو صحیح طور سے سمجھتے ہی نہیں بعض شارحین نے اس جملہ کے معنے یہ کئے ہیں کہ قرآ ن کریم کو گمراہ لوگ بدل نہیں سکتے،یہ اسی طرح محفوظ رہے گا کیوں نہ ہو کہ رب تعالٰی اس کا حافظ ہے فرماتا ہے:"اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ"۔اس صورت میںبہکیبتعدیہ ہے تاریخ شاہد ہے کہ قرآن کریم بدلنے کی بہت کوششیں کی گئیں،مگر بدلنے والے مٹ گئے قرآن کریم نہ بدل سکا۔
۱۱؎یعنی قرآن مجید کی عبارت دوسرے کلاموں سے ایسے ممتاز ہے کہ دوسرا عربی کلام خواہ کتنا ہی فصیح و بلیغ ہو اس سے خلط نہیں ہوسکتا۔مخلوق کا کلام خالق کے کلام سے مشتبہ نہیں ہوسکتا۔یا اس جملہ کے معنی یہ ہیں کہ یہ کلام مسلمانوں کی زبان پر گراں نہیں پڑتا۔آسانی سے پڑھ لیاجاتاہے بلکہ حفظ کرلیا جاتاہے رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ"۔
۱۲؎یعنی قرآن کریم کے اسرار و نکات کبھی ختم نہیں ہوتے،علماء جب بھی غور کرتے ہیں اس سے نئے مسائل و اسرار معلوم کرتے ہیں،قرآن کریم کی کنہ تک کوئی نہیں پہنچتا،یہ ان موتیوں کا وہ سمندر ہے جس کے موتی کبھی ختم نہیں ہوتے۔
۱۳؎قرآ ن کریم کا کھلا معجزہ ہے کہ بغیر معنے سمجھے بھی اس کا پڑھنا اور سننا لذت دیتا ہے اور عمر بھر پڑھو ہر بار نیا لطف دیتا ہے اس سے دل اکتاتا نہیں دوسرے کلام کتنے ہی اعلیٰ ہوں مگر چند بار پڑھ لینے کے بعد دل اکتا جاتاہے۔
۱۴؎یہ جملہ پہلے جملوں کی یا تو شرح ہے یا دلیل یعنی اس سے علماء سیر نہیں ہوتے،بار بار پڑھنے سے یہ پرانا نہیں پڑ تا کیونکہ اس کے عجیب مضامین کبھی ختم نہیں ہوتے ہر بار عجیب لطف دیتاہے۔
۱۵؎یہ نصیبین کے جنات کا واقعہ ہے جو قرآن شریف نے سورۂ جنّ میں بیان فرمایا کہ جنات کے ایک گروہ نے سوق عکاظ میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے قرآن کریم سنا تو اپنی قوم میں جاکر یہ گفتگو کی۔
۱۶؎یہ تمام خوبیاں قرآن کریم سے وہ حاصل کر سکتا ہے جو اسے محض اپنی رائے سے نہ سمجھے بلکہ حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیم سے سمجھے۔ورنہ آج ہربے دین قرآن کریم ہی کا نام لے کر لوگوں کو گمراہ کررہاہے۔
۱۷؎اس حدیث کی اسناد میں ایک راوی حارث ابن اعور تھے وہ اگرچہ حضرت علی کے ساتھ رہے ہیں اور ان سے چار حدیثیں بھی روایت کی ہیں،مگر اسے نسائی نے کہا یہ قوی نہیں،شعبی نے کہا یہ جھوٹاتھا مگر ابوداؤد نے فرمایا یہ بڑ ا فقیہ علم فرائض کا بڑا عالم اور بہت نسب دان تھا،بہرحال اگرچہ الفاظ حدیث میں کچھ ضعف ہو مگر معنے حدیث بالکل صحیح ہیں نیز فضائل میں حدیث ضعیف بھی قبول ہے(مرقات،لمعات)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2138