Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2148

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى قَرَأَ: طه و يس قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ بِأَلْفِ عَامٍ، فَلَمَّا سَمِعَتِ الْمَلَائِكَةُ الْقُرْآنَ قَالَتْ: طُوْبٰى لأُمَّةٍ يُنْزَلُ هٰذَا عَلَيْهَا، وَطُوْبٰى لِأَجْوَافٍ تَحْمِلُ هٰذَا ، وَطُوْبٰى لِأَلْسِنَةٍ تَتَكَلَّمُ بِهٰذَا ". رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن الله تعالى قرأ: طه و يس قبل أن يخلق السماوات والأرض بألف عام، فلما سمعت الملائكة القرآن قالت: طوبى لأمة ينزل هذا عليها، وطوبى لأجواف تحمل هذا ، وطوبى لألسنة تتكلم بهذا ". رواه الدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے کہتعالٰی نے سورہ طہ اور یسین زمین و آسمان پیدا فرمانے سے ایک ہزار سال پہلے پڑھی ۱؎جب فرشتوں نے قرآن سنا تو بولے خیر و خوبی ہے اس امت کو جس پر یہ اترے گی اور خوبی ہے ان سنیوں کو جو اسے اٹھائیں گے اور خوبی ہے ان زبانوں کو جو اسے پڑھیں گی ۲؎(دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎حدیث بالکل ظاہرمعنی پر ہے واقعی رب تعالٰی نے یہ سورتیں پڑھیں،فرشتوں نے بلاواسطہ سنیں اب رب تعالٰی کی تلاوت کی نوعیت ہماری عقل سے وراءہے اس طرح قرأت کی جو اس کی شان کے لائق ہے۔مرقات نے فرمایا کہیٰسٓاورطٰہٓحضور انورصلی اللہ علیہ و سلم کے نام شریف ہیں،چونکہ ان سورتوں کی ابتداءحضور انورصلی اللہ علیہ و سلم کے نام سے ہوئی اس لیے یہ سوتیں بہت عظمت والی ہیں اسی وجہ سے رب تعالٰی نے فرشتوں کو سنائیں۔معلوم ہوا کہ نعت کی سورتیں،آیتیں رب تعالٰی کو بڑی پیاری ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کی پیدائش زمین و آسمان کی پیدائش سے پہلے ہے۔
۲
؎طوبی جنت کا ایک درخت بھی ہے جس کی شاخیں جنت کے ہرمحل میں ہیں اور بمعنی خوشخبری بھی یہاں دونوں معنے بن سکتے ہیں یعنی ساری امت محمدیہ عمومًا اور ان سورتوں کے حافظ وقاری خصوصًادرخت طوبی کے مالک ہیں یا انہیں خصوصی خوشخبری ہے یہ لوگ بڑے خوش نصب ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2148