Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2111

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ إِلٰى أَهْلِهٖ أَنْ يَجِدَ فِيْهِ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ؟ " قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: "فَثَلَاثُ آيَاتٍ يَقْرَأُ بِهِنَّ أَحَدُكُمْ فِيْ صَلَاتِهٖ خَيْرٌ لَهٗ مِنْ ثَلَاثِ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "أيحب أحدكم إذا رجع إلى أهله أن يجد فيه ثلاث خلفات عظام سمان؟ " قلنا: نعم. قال: "فثلاث آيات يقرأ بهن أحدكم في صلاته خير له من ثلاث خلفات عظام سمان". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تم میں سے کوئی یہ چاہتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر لوٹے تو وہاں تین حاملہ بڑی اور موٹی اونٹنیاں پائے ۱؎ہم نے عرض کیا ہاں فرمایا تو تین آیتیں جنہیں کوئی اپنی نماز میں پڑھ لے ۲؎وہ اسے تین حاملہ بڑی اور موٹی اونٹنیوں سے بہتر ہیں ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جب سفر،بازار سے گھر پہنچے تو وہاں یہ حلال دولت پائے،اہل عرب مادہ اونٹنی کو خصوصًا جب وہ حاملہ بھی ہو اونچی اورموٹی بھی بہت ہی پسند کرتے ہیں،اس لیے یہ مثال ارشاد ہوئی کیونکہ اونٹنی سے نسل چلتی ہے اونٹ سے نہیں چلتی اور ظاہر ہے کہ اچھی نسل کی اونٹنی کی نسل بھی اچھی ہوگی ۔
۲
؎قرآن کریم اعلیٰ چیز ہے اور جب نماز میں پڑھا جائے تونورٌ علیٰ نورہے کہ نماز و قرآن کی برکتیں جمع ہوجاتی ہیں اور اگر تقدیر سے حرم مکہ یا حرم مدینہ میں نماز نصیب ہوجائے تو اس تلاوت کی برکتیں بے شمار ہو جاتی ہیں کہ تین خوبیاں جمع ہوگئیں،نماز، تلاوت،حرم کی زمین۔
۳
؎ان اونٹنیوں کا نفع صرف دنیا میں ہے اور آیات قرآنیہ کا نفع دنیا میں بھی آخرت میں بھی اور فانی سے باقی بہتر ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ دنیاوی مال میں مشغول ہو کر آخرت سے لاپرواہ نہ ہوجائیے،یہ مطلب نہیں کہ دنیا بالکل چھوڑ دو کہ اسلام میں ترک دنیا منع ہے بلکہ جو دنیا دین کمانے کا ذر یعہ ہو وہ بھی دین ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2111