Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2141

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَاسْتَظْهَرَهٗ، فَأَحَلَّ حَلَالَهٗ، وَحَرَّمَ حَرَامَهٗ، أَدْخَلَهُ اللّٰهُ الْجَنَّةَ، وَشَفَّعَهٗ فِيْ عَشَرَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهٖ، كلُّهمُ قَدْ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ، وَحَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّاوِيْ لَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ، يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيْثِ.

وعن علي قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "من قرأ القرآن فاستظهره، فأحل حلاله، وحرم حرامه، أدخله الله الجنة، وشفعه في عشرة من أهل بيته، كلهم قد وجبت له النار". رواه أحمد والترمذي وابن ماجه والدارمي ، وقال الترمذي: هذا حديث غريب، وحفص بن سليمان الراوي ليس هو بالقوي، يضعف في الحديث.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے جو قرآن پڑھے پھر اسے یاد رکھے ۱؎اس کے حلال کو حلال اس کے حرام کو حرام جانے ۲؎اسے جنت میں داخل کرے گا اور اس کے گھر والوں میں سے ایسے دس آدمیوں میں اس کی شفاعت قبول فرمائے گا جن کے لیے دوزخ ضروری ہوچکی ۳؎احمد ترمذی،ابن ماجہ دارمی اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور حفص ابن سلیمان راوی قوی نہیں انہیں حدیث میں ضعیف مانا گیا ہے۴؎

شرح حدیث

۱∞؎استظہارکے معنے ہیں مدد لینا یعنی تلاوت قرآن میں اپنے دل سے مدد لے کہ اسے یاد رکھے،ہر وقت اس کا خیال و لحاظ رکھے۔
۲
؎یعنی صرف تلاوت و حفظ پر قناعت نہ کرے بلکہ اس کے عقائد کو مانے احکام پرعمل کرے لہذا اس میں حافظ و عالم با عمل دونوں داخل ہیں۔
۳
؎ایسے باعمل عالم کو قرآن پاک سے دو عظیم الشان فائدے حاصل ہوں گے:ایک یہ کہ اول ہی سے جنت میں داخل کیا جائے گا۔ دوسرے یہ کہ اس کے اہلِ قرابت میں سے دس دوزخی مسلمانوں کو اس کی شفاعت سے بخشا جائے گا۔ معلوم ہوا کہ شفاعت بلندی درجات ہی کی نہ ہوگی بلکہ معافی سئیات کی بھی ہوگی اور علماء حافظ،شہدا،وغیرہم کی شفاعت برحق ہے۔ خیال رہے کہ شفاعت کبرے کا سہرا صرف حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم کے سر ہے شفاعت صغرے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے غلام بھی کریں گے شفاعت کی تحقیق و تقسیم ہماری "تفسیرنعیمی"جلد سوم میں ملاحظہ فرمائیے۔
۴
؎یعنی یہ حدیث غریب بھی ہے اور حفص ابن سلیمان راوی کی وجہ سے اس کی یہ اسناد جس میں یہ راوی ہے ضعیف بھی ہے مگر ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ فضائل میں حدیث ضعیف بھی قبول ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2141