Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2152

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَرَوَاهُ الدَّارِمِيْ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ مُرْسَلًا، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ.

ورواه الدارمي عن خالد بن معدان مرسلا، وقال الترمذي: هذا حديث حسن غريب.

حدیث ترجمہ

دارمی نے یہ حدیث خالد ابن معدان سے مرسلًا روایت کی ۳؎اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے غریب ہے ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جن سورتوں کے اول میںسَبَّحَیایُسَبِّحُیا"سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی"یاسُبْحٰنَہے وہ سورتیں پڑھتے تھے یہ سورتیں کل سات ہیں سورۂ اسراء،حدید،حشر،صف،جمعہ،تغابن،اعلٰے مرقات۔ ظاہر یہ ہے کہ سرکار یہ پوری سورتیں نہ پڑھتے ہوں گے کہ یہ تو بہت زیادہ ہیں بلکہ ان کی چیدہ چیدہ آیات تلاوت فرماتے ہوں گے۔
۲
؎ان الفاظ سے یہ پتہ نہ لگا کہ و ہ ا ٓیت کون سی ہے بعض نے فرمایا کہ وہ آیت"لَوْ اَنۡزَلْنَا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ"الایہہے۔بعض نے فرمایا کہ وہ آیت ہرسورۃ کی شروع کی آیت ہے جس میںسبحیایسبحہے مگر حق یہ ہے کہ وہ آیت رب تعالٰی کے اسم اعظم یا شبِ قدر کی طرح صیغہ راز میں رکھی گئی ہے۔ مرقات نے فرمایا کہ یہاںفیھنسے مر ادجمیعھنہے یعنی ان تمام سورتوں میں ایک ایک آیت ایسی ہے جو ہزار آیتوں سے افضل و بہتر ہے۔
۳
؎کیونکہ خالد ابن معدان شامی ہیں،ثقہ ہیں ،تابعی ہیں۔فرما تے ہیں کہ میں نے سترصحابہ سے ملاقات کی ہے ہم نے پہلے عرض کیا کہ ثقہ تابعی کا ارسال معتبر ہے اور ان سے مرسل حدیث حجت ہے کہ وہ تابعی خود تو ثقہ ہے اور صحابہ سارے ہی عادل ہیں۔
۴
؎اسے نسائی نے حضرت عرباض ابن ساریہ سے مر فو عًا اور معاویہ ابن صالح سے موقوفًا روایت کیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2152