Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2157

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "مَنْ قَالَ حِيْنَ يُصْبِحُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: أَعُوْذُ بِاللّٰهِ السَّمِيْعِ الْعَلِيْمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، فَقَرَأَ ثَلَاثَ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ سُوْرَةِ الْحَشْرِ،وَكَّلَ اللّٰهُ بِهٖ سَبْعِيْنَ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّوْنَ عَلَيْهِ حَتّٰى يُمْسِيَ، وَإِنْ مَاتَ فِيْ ذٰلِكَ الْيَوْمِ مَاتَ شَهِيْدًا. وَمَنْ قَالَهَا حِيْنَ يُمْسِيْ كَانَ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ.

وعن معقل بن يسار عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "من قال حين يصبح ثلاث مرات: أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم، فقرأ ثلاث آيات من آخر سورة الحشر،وكل الله به سبعين ألف ملك يصلون عليه حتى يمسي، وإن مات في ذلك اليوم مات شهيدا. ومن قالها حين يمسي كان بتلك المنزلة". رواه الترمذي والدارمي، وقال الترمذي: هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معقل ابن یسار سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ حضور نے فرمایا جو صبح کے وقت تین بار یہ کہہ لے کہ میں سننے والے جاننے والےاللہ کی پناہ مانگتا ہوں ۱؎مردود شیطان سے ۲؎پھر سورۃ حشر کی آخری تین آیتیں پڑھ لے۳؎تو اللہ اس پر ستر ہزار فرشتے مقرر فرمادے گا جو شام تک اسے دعائیں دیں گے اور اگریہ اس دن مرجائے تو شہید مرے گا۴؎اور جو یہ چیزیں شام کے وقت پڑھ لے تو اسی درجہ میں ہوگا ۵؎ترمذی دارمی اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی میری بات سننے والے،میرا درد دل جاننے والے رب کی پناہ مانگتا ہوں۔خیال رہے کہاعوذجملہ خبریہ ہے بمعنیان شاءیعنی اے اللہ مجھے اپنی پناہ میں لے لے۔
۲
؎تاکہ دن بھر وہ مردود مجھے بہکانہ سکے،عبادتوں میں دھیان نہ بٹا سکے،چونکہ سویرا زندگی کی دکان کھلنے کا وقت ہے اس لیے خصوصیت سے اسی وقت یہ دعا پڑھوائی گئی۔
۳
؎"ھُوَ اللّٰہُ الَّذِیۡسے آخر سورۃ"وَ ھُوَالْعَزِیۡزُ الْحَکِیۡمُ"تک یہ آیات خالص حمد کی ہیں۔
۴
؎یہاں فرشتوں کی دعا سے ان کی خصوصی دعائیں مراد ہیں،ورنہ فرشتے عمومی دعائے مغفرت تو ہر مسلمان کے لیےکرتے رہتے ہیں جیساکہ پہلے عرض کیا گیا اور شہید سے مراد شہادت حکمی ہے کہ بندہ اگرچہ اپنے بستر پر مرے مگر قیامت میں اس کا شمار ان شہداءمیں ہو جو راہ خدا میں مارے گئے۔
۵
؎لغت میں صباح آدھی رات سے زوال تک کو کہتے ہیں اور مساء زوال سے اول نصف رات تک کو مگر اورادووظائف میں صبح صادق سے سورج نکلنے سے کچھ بعد تک ہے اور شام اس کے مقابل یعنی سورج چھپنے سے کچھ رات گئے تک یعنی وقت عشاء آنے سے پہلے۔(ازمرقات)اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے صبح و شام کی نہایت نفیس تحقیق اپنی کتاب "الوظیفۃ الکریمۃ"میں فرمائی ہے ناظرین اس کا مطالعہ ضرور کریں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2157