- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- قرآن کے فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 2176
باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2176
قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 2109
- 2110
- 2111
- 2112
- 2113
- 2114
- 2115
- 2116
- 2117
- 2118
- 2119
- 2120
- 2121
- 2122
- 2123
- 2124
- 2125
- 2126
- 2127
- 2128
- 2129
- 2130
- 2131
- 2132
- 2133
- 2134
- 2135
- 2136
- 2137
- 2138
- 2139
- 2140
- 2141
- 2142
- 2143
- 2144
- 2145
- 2146
- 2147
- 2148
- 2149
- 2150
- 2151
- 2152
- 2153
- 2154
- 2155
- 2156
- 2157
- 2158
- 2159
- 2160
- 2161
- 2162
- 2163
- 2164
- 2165
- 2166
- 2167
- 2168
- 2169
- 2170
- 2171
- 2172
- 2173
- 2174
- 2175
- 2176
- 2177
- 2178
- 2179
- 2180
- 2181
- 2182
- 2183
- 2184
- 2185
- 2186
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَن خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ قَالَ: اقْرَؤُوا الْمُنْجِيَةَ، وَهِي الم تَنْزِيْلُ ، فَإِنَّهٗ بَلَغَنِيْ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَقْرَؤُهَا، مَا يَقْرَأُ شَيْئًا غَيْرَهَا، وَكَانَ كَثِيْرَ الْخَطَايَا، فَنَشَرَتْ جَنَاحَهَا عَلَيْهِ، قَالَتْ: رَبِّ اغْفِرْ لَهٗ، فَإِنَّهٗ كَانَ يُكْثِرُ قِرَاءَتِيْ، فَشَفَّعَهَا الرَّبُّ تَعَالٰى فِيْهِ وَقَالَ: اكْتُبُوْا لَهٗ بِكُلِّ خَطِيْئَةٍ حَسَنَةً، وَارْفَعُوْا لَهٗ دَرَجَةً، وَقَالَ أَيْضًا: إِنَّهَا تُجَادِلُ عَنْ صَاحِبِهَا فِي الْقَبْرِ، تَقُوْلُ: اَللّٰهُمَّ إِنْ كُنْتُ مِنْ كِتَابِكَ فَشَفِّعْنِيْ فِيْهِ، وَإِنْ لَمْ أَكنْ مِنْ كِتَابِكَ فَامْحُنِيْ عَنْهُ، وَإِنَّهَا تَكُوْنُ كَالطَّيْرِ تَجْعَلُ جَنَاحَهَا عَلَيْهِ فَتَشْفَعُ لَهٗ، فتَمْنَعُهٗ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ. وَقَالَ فِيْ تَبَارَكَ مِثْلَهٗ. وَكَانَ خَالِدٌ لَا يَبِيْتُ حَتّٰى يَقْرَأَهُمَا،وَقَالَ طَاوُوْسٌ: فُضِّلَتَا عَلٰى كُلِّ سُوْرَةٍ فِي الْقُرْآنِ بِسِتِّيْنَ حَسَنَةً. رَوَاهُ الدَّارمِيُّ.
وعن خالد بن معدان قال: اقرؤوا المنجية، وهي الم تنزيل ، فإنه بلغني أن رجلا كان يقرؤها، ما يقرأ شيئا غيرها، وكان كثير الخطايا، فنشرت جناحها عليه، قالت: رب اغفر له، فإنه كان يكثر قراءتي، فشفعها الرب تعالى فيه وقال: اكتبوا له بكل خطيئة حسنة، وارفعوا له درجة، وقال أيضا: إنها تجادل عن صاحبها في القبر، تقول: اللهم إن كنت من كتابك فشفعني فيه، وإن لم أكن من كتابك فامحني عنه، وإنها تكون كالطير تجعل جناحها عليه فتشفع له، فتمنعه من عذاب القبر. وقال في تبارك مثله. وكان خالد لا يبيت حتى يقرأهما،وقال طاووس: فضلتا على كل سورة في القرآن بستين حسنة. رواه الدارمي.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت خالد ابن معدان سے ۱؎کہ انہوں نے فرمایا نجات دینے والی سورة پڑھا کرو جوالم تنزیلہے ۲؎مجھے خبرملی ہے کہ ایک شخص یہ ہی سورہ پڑھتا تھا اس کے سواء کچھ نہ پڑھتا تھا۳؎اور وہ تھا بڑا گنہگار تو اس سورۃ نے اس کے اوپر اپنے پر پھیلا دیئے بولی یا رب اسے بخش دے ۴؎کیونکہ یہ میری بہت تلاوت کرتا تھا رب تعالٰی نے اس کے بارے میں اس کی شفاعت قبول کی ۵؎اور فرمایا اس کے لیے ہر گناہ کے عوض نیکی لکھو اور درجہ بلند کرو ۶؎راوی نے یہ بھی فرمایا کہ یہ سورۃ اپنے پڑھنے والے کی طرف سے قبر میں جھگڑے گی کہے گی الٰہی اگر میں تیری کتاب سے ہوں تو اس کے حق میں میری شفاعت قبول کر۷؎اور اگر میں تیری کتاب سے نہیں ہوں تو مجھے اس سے مٹا دے ۸؎اور وہ پرندے کی طرح ہوجائے گی کہ اس پر اپنے پر پھیلا دے گی ۹؎اس کی شفاعت قبول کی جائے گی اور یہ اسے عذاب قبر سے بچالے گی اور سورہ ملک کے بارے میں اسی طرح فرمایا ۱۰؎اور حضرت خالد اسے بغیر پڑھے نہ سوتے تھے حضرت طاؤس نے فرمایا یہ دونوں سورتیں قرآن کی تمام سورتوں پر ساٹھ گنا بزرگی رکھتی ہیں ۱۱؎(دارمی)
شرح حدیث
۱∞؎آپ مشہور تابعی ہیں،ستر صحابہ سے آپ کی ملاقات ہے،ثقہ ہیں،عالم ہیں۔(اشعہ)
۲؎یہ سورۃ دنیاوی آفات عذاب قبروحشر سے نجات کا ذریعہ ہے اس لیے اسے منجیہ کہتے ہیں جب قرآنی سورۃ کو منجیہ کہنا درست ہے تو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو بھی منجی یعنی نجات دہندہ کہا جاسکتاہے۔
۳؎یعنی صرف اس سورہ کا وظفیہ کرنا اس کے سوائے اس کا کوئی ورد وظفیہ نہ تھا۔
۴؎یعنی جب وہ قبر میں گیا تو یہ سورت پرندے کی شکل میں نمودار ہوئی اور اس پر اپنے پروں کا سایہ کرلیا تاکہ اس شخص پر عذاب نہ آسکے ظاہر یہ ہے کہ یہ خبر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کو دی ہو بعض صحابہ سے بعض گناہ سرزد ہوئے ہیں مگر ان میں فاسق کوئی نہیں گناہ اور ہے فسق کچھ اور۔
۵؎یعنی اس شفاعت کی برکت سے عذاب قبر دفع ہی ہوگیا۔اولًا تو اس نے عذابِ قبر سے بچایا پھر دفع کیا۔
۶؎یعنی اس کے نامۂ اعمال سے سارے گناہ مٹا دو اور ہر گناہ پر نیکی کا ثواب دو یہ مطلب نہیں ہے کہ گناہ ہٹا کر یہ لکھ دو کہ اس نے نیکیاں کیں کہ یہ تو جھوٹ ہے رب تعالٰی فرماتاہے:"فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنٰتٍ"۔بادشاہ خوش ہوتے ہیں تو گالی پر انعام دے دیتے ہیں گاہے بدشنام خلعت دہند،لہذا حدیث واضح ہے۔ خیال رہے کہخطیئۃٌسے مراد حقوق اللہ کے گناہ صغیرہ ہیں نہ کہ حقوق العباد،لہذا اس سے یہ لازم نہیں کہالٓم تنزیلپڑھنے والا لوگوں کے مال مارے چوری ڈکیتی کرتا رہے اور اس کو ان جرموں پر ثواب ملے۔
۷؎اور اس کی قبر میں وسعت،نور کردے،اور اسے سوالات نکیرین میں کامیاب فرمادے،کیونکہ یہ مجھے بہت تلاوت کرتا تھا آج اس کا پھل اسے دے۔
۸؎یعنی مجھے لوح محفوظ سے مٹادے یا قرآنی اوراق سے یا اس کے سینے سے نکال دے۔یہ ناز کی عرض و معروض ہے جیسے ناز پروردہ غلام اپنے آقا سے کہے کہ اگر میں تیرا غلام ہوں،تو میری بات مان ورنہ مجھے فروخت فرمادے،یا بیٹا باپ سے عرض کرے کہ اگر میں آپ کا فرزند ہوں تو میرے حق کا لحاظ فرمادیں،اگر نہی ہوں تو مجھے اپنے گھر سے باہر نکال دیجئے،لہذا یہ اگر مگر شک و تردد کے لیے نہیں۔
۹؎یعنی جیسے مرغی یا چڑیا اپنے بچوں کو اپنے پروں میں لے لیتی ہے جس سے بچوں تک باہر کی تکلیف نہیں پہنچنے پاتی،ایسے ہی یہ سورۃ اپنے عامل کو قبر و قیامت میں اپنے پروں میں لے لے گی جس سے اس شخص تک گرمی،وحشت،دہشت وغیرہ نہ پہنچ سکے گی۔
۱۰؎حضرت خالد ابن معدان نے سورہ ملک کے فضائل بھی تقریبًا ایسے ہی بیان کئے۔
۱۱؎یعنی بعض خصوصی فائدوں میں دوسری تما م سورتوں سے ساٹھ گنا زیادہ ہیں،یا بعض حالات میں ان کی تلاوت دوسری سورتوں کی تلاوت سے ساٹھ گنا زیادہ مفید ہو جیسے نماز وتر میں"سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلٰی"اور"قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ"اور"قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ"پڑھنا بہت بہتر ہے اور جمعہ کی فجر میں سورۃ سجدہ اور سورۂ دھر کی تلاوت افضل ہے لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ سورۂ فاتحہ اور سورۂ اخلاص کے فضائل تو بہت ہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2176