Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2144

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ قَرَأَ حم الْمُؤْمِنَ إِلٰى إِلَيْهِ الْمَصِيْرُ وَآيَةَ الْكُرْسِيِّ حِيْنَ يُصْبِحُ حُفِظَ بِهِمَا حَتّٰى يُمْسِيَ، وَمَنْ قَرَأَ بِهِمَا حِيْنَ يُمْسِيْ حُفِظَ بِهِمَا حَتّٰى يُصْبحَ"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "من قرأ حم المؤمن إلى إليه المصير وآية الكرسي حين يصبح حفظ بهما حتى يمسي، ومن قرأ بهما حين يمسي حفظ بهما حتى يصبح"رواه الترمذي والدارمي، وقال الترمذي: هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو شخص صبح کے وقت سورۂ حم مؤمنالیہ المصیرتک ۱؎اور آیۃ الکرسی پڑھ لیا کرے تو شام تک اس کی حفاظت کی جائے گی ۲؎اور جوان دونوں کو شام کے وقت پڑھ لیا کرے تو صبح تک اس کی حفاظت ہوگی۳؎ترمذی،دارمی اور ترمذی نے فرمایا۔یہ حدیث غریب ہے۴؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی سورۂ مؤمن کی پہلی آیت"حٰمٓ تَنۡزِیۡلُ الْکِتٰبِ مِنَ اللہِ الْعَزِیۡزِ الْعَلِیۡمِ غَافِرِ الذَّنۡۢبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِیۡدِ الْعِقَابِ ذِی الطَّوْلِ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ اِلَیۡہِ الْمَصِیۡرُ"تک پڑھے۔
۲
؎کہ جوشخص نماز فجر سے پہلے یا اس کے بعد یہ دو آیتں پڑھ لیا کرے خواہ آیۃ الکرسی سے پہلے پڑھےاور سورۂ مؤمن کی یہ آیت بعد میں یا اس کے برعکس،مرقات وغیرہ تو شام تک وہ اللہ کی امان و حفظ میں رہے گا کہ شیطان،جادو اور دوسری دنیاوی آفتیں اس تکان شاء اللهنہ پہنچ سکیں گی۔
۳
؎یعنی بعد نماز مغرب یہ آیتیں پڑھ لیا کرے تو صبح تک اللہ کی حفظ و امن میں رہے گا۔خیال رہے کہ بغیر نماز کوئی وظیفہ یا عمل مفید نہیں تمام وردوظیفوں کے لیے پابندی نماز ضروری ہے
۴
؎یہ حدیث احمد و ابن حبان نے بھی روایت کی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2144